اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 506 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 506

506 دعویٰ کیا کہ میں اسلام میں حضرت محمد مصطفی واحمد مجتبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غلام ہو کر محمد وسیح بن کر آیا ہوں اور اس وقت اگر کسی مذہب کو اسلام کے مقابلہ میں دعوئی ہے تو سامنے آئے اس کو پاش پاش کر دوں گا اور اسلام ہی کا بول بالا ہوگا۔پھر خونی مسیح نہیں بلکہ احمدی مسیح صلیب کو توڑنے کے لئے آیا ہے۔اس کی زبان میں عجیب شیرینی ہے اور اس کے افعال و اعمال میں تاثیر ہے۔پھر روحانی اور جسمانی مرضوں کا طبیب ہے۔اس چشمہ سے جو محمد کے بڑے چشمہ سے نکلا ہے عجب معرفت کا پانی نکلتا ہے۔پس ایسے وقت میں وہ شخص بڑا ہی محروم ہے جو تحقیقات مذہبی کر کے اس امام سے فائدہ نہ اٹھائے اور اس سے تعلقات پیدا نہ کرے۔(مکتوب ۰۲-۱-۵) آپ کے اعلیٰ مقام تو کل کا علم ہمیں آپ کے ایک مکتوب سے بھی ہوتا ہے۔آپ اس میں اپنے ایک بیٹے کو تحریر فرماتے ہیں۔بعض دنیوی باپوں کا یہ خیال خام ہوتا ہے کہ اولا دبڑھاپے میں اس کی خدمت کرے گی اور وہ کما کر لائے گی اور ان کی کمائی کا بوڑھے باپ کو سہارا ہوگا۔سواول تو خداوند تعالیٰ نے مجھ کو ایسی حالت میں اپنے فضل وکرم سے پیدا کیا کہ میں ان امور میں سر دست محتاج نہیں ہوں۔دوسرے ایک مرسل یزدانی کے پاک دامن سے لگنے نے اس قسم کے سہاروں سے مجھ کو بالکل مستغنی کر دیا۔اس لئے اگر کسی باپ کو اولاد سے مطلب ہو بھی تو کم از کم مجھ کو ذرہ برابر نہیں۔“ 6 احمدیت کے لئے جذبہ قدر واحترام ، الحب لِلہ والبغض الله ، غیروں سے حسن سلوک دنیا داروں کا اصول بغض و محبت لالـحـبّ على بل ببغض معاویہ کے رنگ میں ہوتا ہے۔اور ہر دو کے تحت خود غرضی کا اصل کارفرما ہوتا ہے۔لیکن خدا ترس لوگوں کا دامن اس عیب سے ملوث نہیں ہوتا۔ان کی محبت بھی اللہ تعالیٰ کی خاطر ہوتی ہے۔اور ان کی ناراضگی بھی اور ان کا ورد اللهم اني أَسْتَلُكَ حُبّك وحب من يحبُّكَ وَالْعَمَلُ الذي يُقربنی الیک ہوتا ہے اور وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبَّالِله کے معیار پر وہ پورا اترتے ہیں۔الحب الله والبغض الله کا نظارہ ہم حضرت نواب صاحب کی ذات والا صفات میں نمایاں پاتے ہیں آپ دنیوی حیثیت سے ادنیٰ احمدی کو احمدیت کی وجہ سے قابل قدر واحترام خیال کرتے تھے۔اور اپنے اقارب کے احمدیت سے دور ہونے کی وجہ سے قلبی اذیت پاتے تھے۔لیکن ہر دو قتم ۱۳۷۵