اصحاب احمد (جلد 2) — Page 484
484 کی اہمیت سلسلہ احمدیہ کی وجہ سے ہی تھی اس لئے مہمان نوازی وغیرہ کی ذمہ داری جماعت پر ہی تھی۔چنانچہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ خواجہ کمال الدین صاحب اور ان کے بھائی خواجہ جمال الدین صاحب گھوڑوں پر سوار ہو کر ایک میل آگے پیشوائی کے لئے گئے۔ریتی چھلہ کو خیموں اور ڈیروں کے لئے صاف کیا گیا اور ایک دروازہ بنایا گیا جس پر WEL COME ( خوش آمدید ) لکھا تھا اور دروازہ کے اندر سٹرک پر خیمہ تک دور و یہ پھولوں کے گملے رکھے گئے اور خیمہ کے باہر ایک چبوترہ تیار کیا گیا۔مکرم عرفانی صاحب فرماتے ہیں کہ فنانشل کمشنر کے لئے انتظام دروازے وغیرہ کی تعمیر کا میرے سپرد تھا اور یہ سب کام نواب صاحب کے مستریوں نے کیا تھا بلکہ سبزی کے لئے جو بودیئے گئے تھے جو جلد اگ آتے ہیں اور سبزہ زار بن گیا تھا۔چبوترہ پر سلسلہ کے ساٹھ کے قریب معززین جو مختلف مقامات سے خاص طور پر اس موقعہ کے لئے آئے تھے استقبال کے لئے بیٹھے تھے۔مکرم میاں محمد عبد الرحمن خاں صاحب بیان کرتے ہیں۔پیشوائی کے لئے جانے والوں میں بطور نمبر دار حضرت مرزا سلطان احمد صاحب بھی تھے اور حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب اس گھوڑے پر سوار تھے جو بطور تحفہ کپورتھلہ سے آیا تھا۔چونکہ خواجہ کمال الدین صاحب بھاری بھر کم جسم کے تھے ان کا گھوڑا کمزور سا تھا اس لئے ان کے ہمراہ دو پٹھان کر دئے گئے تھے تا گھوڑے کو چلاتے رہیں لیکن خواجہ صاحب واپسی پر کچھ دیر بعد پہنچ سکے۔مدرسہ تعلیم الاسلام کے طلبہ بھی استقبال کے لئے موجود تھے ان میں میں اور میرے دونوں بھائی میاں محمد عبد اللہ خاں صاحب اور میاں عبدالرحیم خاں صاحب بھی شامل تھے۔کمشنر صاحب نے مع رفقاء گھوڑے پر سوار ہی سب سے ملاقات کی۔معززین کی قطار میں سرے پر حضرت مولوی نور الدین صاحب اور دوسرے نمبر پر حضرت نواب صاحب تھے۔حضرت مولوی صاحب نے ذکر کیا کہ آپ سے میری ملاقات اپنے ضلع شاہ پور میں ہوئی تھی جبکہ آپ وہاں ڈپٹی کمشنر تھے۔کمشنر صاحب نے اس امر کی تصدیق کی۔ہم تینوں بھائیوں کے متعلق کمشنر صاحب نے دریافت کیا تو بتایا گیا کہ ہم قادیان میں تعلیم پاتے ہیں۔ڈپٹی کمشنر صاحب نے حضرت مولوی صاحب کے مطب کا بھی معائنہ کیا اور مدرسہ تعلیم الاسلام کا بھی۔کمشنر صاحب کی طرف سے ملاقات کی خواہش کا اظہار ہونے پر حضرت اقدس اس معزز مہمان کے ہاں خود تشریف لے گئے۔کمشنر صاحب خیمہ سے باہر لینے کے لئے آئے۔قریباً ایک گھنٹہ تک ملاقات رہی جہاں حضرت والد صاحب بھی موجود تھے۔واپس آکر گھر میں والد صاحب نے ذکر کیا کہ کمشنر صاحب کی طرف سے کانگریس اور مسلم لیگ کا ذکر ہونے پر حضور نے فرمایا کہ مجھے ان دونوں سے بغاوت کی بو آتی ہے۔“