اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 2 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 2

2 لودھی تھا۔تیسرا بیٹا جو ایک دوسری بیوی کے بطن سے تھا اس کا نام سروانی تھا۔ہمارا مالیر کوٹلہ کا خاندان سروانی کی اولاد ہے۔سروانی کچھ عرصہ بعد درابن میں آباد ہو گئے تھے۔شیخ صدرالدین صدر جہان جو اپنے فقر اور متصوفانہ طریق میں مشہور تھے۔درابن سے ہندوستان آئے۔اور ایک گاؤں بھومستی نام کے قریب اپنی جھونپڑی بنالی۔یہ جگہ دریائے ستلج کی شاخ بڑھا دریا ( جواب لدھیانہ کے قریب بہتا ہے اور اُس وقت اُس گاؤں کے قریب بہتا تھا ) کے کنارے تھی۔شیخ صاحب موصوف وہاں پر عبادت الہی میں مصروف رہتے تھے۔انہی ایام میں بادشاہ بہلول لودھی بارادہ فتح دہلی جارہا تھا۔اس جھونپڑی کے قریب سے گزر ہوا ایک بار خدا کا نام سُن کر شیخ صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا اور فتح کامرانی کے حصول کے لئے درخواست دُعا کی۔بعد ازاں دہلی فتح ہونے پر اپنی لڑکی کی شادی شیخ صاحب سے کر دی اور چند پرگنہ جات بطور جہیز دیئے۔شیخ صدر جہاں کی دو بیویاں تھیں ایک شہزادی یعنی بہلول لودھی کی بیٹی اور دوسرے رائے کپورتھلہ کی بیٹی۔راجپوت شہزادی کی اولاد سے صوبہ سر ہند قتل ہو گیا اس پاداش میں پر گنہ جات مذکورہ ضبط ہو گئے اور سلطنت بھی بدل چکی تھی۔رائے کپورتھلہ نے اپنے نواسوں کو وہ ضبط شدہ پر گنہ جات خرید کر دیدیئے اس طرح ریاست مالیر کوٹلہ کی بنیاد پڑی۔شیخ صدر جہاں رحمۃ اللہ علیہ نے مالیر آباد کیا۔چند پشتوں بعد بوجہ ناچاقی برادران با یزید خانصاحب دہلی جا کر ملازم ہو گئے۔اور بصلہ خدمات جا گیر واجازت بنائے قلعہ حاصل کی اور بعہد شاہجہاں کوٹلہ آبا د کیا۔اس طرح دونوں آبادیاں مالیر کوٹلہ کہلانے لگیں۔خدمات شاھاں مغلیہ کے صلہ میں ریاست کو وسعت ہوئی اور روپڑ اور پائل وغیرہ علاقہ جات زیر حکومت مالیر کوٹلہ رہے۔سکھوں کی طوائف الملو کی کے زمانہ میں بہت سا علاقہ قبضہ سے نکل گیا۔چنانچہ احمد شاہ درانی کے آنے پر موجودہ علاقہ مالیر کوٹلہ مسلم ہوا۔اور سکہ بھی عطا ہوا۔اس کے بعد ۱۸۰۸ء میں جنرل اختر لونی نے موجودہ علاقہ مالیر کوٹلہ کی تصدیق اور توثیق کر دی اور ریاست مالیر کوٹلہ زیر اقتدار حکومت برطانیہ آگئی۔احمد شاہ درانی کے وقت رئیس مالیر کوٹلہ زمیندار کہلاتے تھے مگر نظم ونسق حکومت میں خود مختار تھے۔شیخ صدر جہاں کی چند پشت بعد نواب جمال خاں کو حکومت ملی چنانچہ موجودہ حکمران خاندان بقیہ حاشیہ :- (ج) بعض جگہ خطوط واحد نی میں ع۔م۔ان درج کئے گئے ہیں۔جن سے مراد یہ ہے کہ امر مذکور میاں عبدالرحمن خاں صاحب۔مکرم میاں محمد عبد اللہ خاں صاحب یا سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ سے معلوم ہوا ہے۔(1) چونکہ مکتوبات احمد یہ جلد پنجم نمبر چہارم ( مرتبہ مکرم عرفانی صاحب) کا حوالہ بار بار ہے اسلئے اکثر صرف مکتوبات کا نمبر درج کیا گیا ہے۔مکتوبات کے تمام حصص مکرم عرفانی صاحب کی سعی و توجہ سے زیور طبع سے مزین ہوئے ہیں اور جماعت احمد یہ کیلئے ایک بیش بہا خزانہ ہیں فجزه الله احسن الجزا۔