اصحاب احمد (جلد 2) — Page 449
449 کرنے سے بھی آپ کے ساتھ دل رکھتا ہے۔مگر چونکہ مولوی صاحب موصوف اس جگہ تشریف رکھتے ہیں اس لئے آپ جو مناسب سمجھیں۔میرے جواب کے خط میں اس کی نسبت تحریر کر دیں۔حقیقت میں مولوی صاحب نہایت صادق دوست اور عارف حقائق ہیں وہ مدراس اور بنگلور کی طرف دورہ کر کے ہزار ہا آدمیوں کے دلوں سے تکفیر اور تکذیب کے غبار کو دور کر آئے ہیں اور ہزار ہا کو اس جماعت میں داخل کر آئے ہیں اور نہایت مستقیم اور قوی الایمان اور پہلے سے بھی نہایت ترقی پر ہیں۔ہماری جماعت اگر چہ غرباء اور ضعفاء کی جماعت ہے۔لیکن ( انشاء اللہ العزیز یہی علماء اور محققین کی ) جماعت ہے اور ان ہی کو میں متقی اور خدا ترس اور عارف حقائق پا تا ہوں اور نیک روحوں اور دلوں کو دن بدن خدا تعالیٰ کھینچ کر اس طرف بلاتا ہے۔فالحمد اللہ علی ذالک۔- الهام وسع مکانک کے تعلق میں انفاق خاکسار مرزا غلام احمد قادیان ۹/ دسمبر ۱۸۹۴ء اسی طرح حضور جب مہمانوں کی خاطر وَسِعُ مَكَانَگ کے ارشادالٹی کی تعمیل میں کوشاں تھے تو حضرت نواب صاحب کو اس نہج سے سابق بالخیرات ہونے کا موقعہ ملا۔حضور اس بارہ میں نواب صاحب کو تحریک کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم مجی عزیزی اخویم نواب صاحب سلمہ اللہ تعالی۔السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ کل کی ڈاک میں آں محبّ کا عنایت نامہ مجھ کو ملا۔آپ کی محبت اور اخلاص اور ہمدردی میں کچھ شک نہیں۔ہاں میں ایک استاد کی طرح جو شاگردوں کی ترقی چاہتا ہے۔آئندہ کی زیادہ قوت کے لئے اپنے مخلصوں کے حق میں ایسے الفاظ بھی استعمال کرتا ہوں جن سے وہ متنبہ ہو کر اپنی اعلیٰ سے اعلیٰ قوتیں ظاہر کریں اور دعا یہی کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ان کی کمزوریاں دور فرمادے۔میں دیکھتا ہوں کہ اس دنیا کا تمام کا روبار اور اس کی نمائش اور عزتیں حباب کی طرح ہیں اور نہایت سعادت مندی اسی میں ہے کہ پورے جوش سے اور پوری صحت کے ساتھ دین کی طرف حرکت کی جائے اور میرے نزدیک بڑے خوش نصیب وہ ہیں کہ اس وقت اور میری آنکھوں کے سامنے دکھ اٹھا خطوط وحدانی کے الفاظ مولف ہذا کی طرف سے ہیں۔