اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 435 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 435

435 یہ اعلان کرنے کے بعد حضور نے نماز جمعہ پڑھائی اور اس کے معا بعد نماز جنازہ پڑھائی۔بیرونی جماعتوں کو بھی چاہئے کہ مرحومہ مغفورہ کا جنازہ غائب پڑھیں اور ان کے درجات کی بلندی کے لئے دعا کریں۔ہم اس صدمہ میں حضرت نواب صاحب اور آپ کے تمام خاندان کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہوئے دعا کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ انہیں صبر عطا فرمائے اور اس کوشش اور سعی کا اجر عظیم بخشے جو انہوں نے مرحومہ کو احمدیت میں داخل کرنے کے لئے فرمائی اور جس میں خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے انہیں کامیابی ہوئی۔“ بعض دیگرا قارب کا قبول احمدیت آپ کے اقارب میں سے نواب سکندر علی خاں آپ کے ایک چا کی بیگم جن کا نام بواللہ جوائی تھا احمدی ہوئیں جن کے ذریعہ حضرت نواب صاحب کی خالہ زاد سوتیلی بہن عائشہ احمدی ہو ئیں مؤخر الذکر ابھی تک زندہ ہیں اور اپنے تئیں احمدی کہتی ہیں ملتان میں ایک نواب سے ان کی شادی ہوئی اور صاحب اولاد ہیں بو اللہ جوائی نے ایک لڑکی پالی تھی وہ بھی ان کے ذریعہ احمدی ہو گئی اور قادیان آئی اس کے رشتہ کی کوشش کی گئی کہ کسی احمدی سے ہو جائے کامیابی نہ ہوئی بو صاحبہ وفات پاگئیں اور بعد میں وہ لڑکی بھی فوت ہوگئی حضرت نواب صاحب کے خالہ زاد بھائی کی لڑکی مبارک النساء احمدیت کی طرف بہت مائل تھیں لیکن ان کی شادی شاہ پور میں پٹھانوں کی کسی بستی میں ہوئی وہ لوگ اتنے سخت نکلے کہ جو کتب احمدیت دی گئیں وہ ان لوگوں نے جلا دیں اور اتنا تعصب ان میں ہے کہ علاج کے طور پر قادیان کی بنی ہوئی جب اٹھرا بھی استعمال نہیں کرنے دیتے۔(ن) کرنل اوصاف علی خاں صاحب کا قبول احمدیت کرنل اوصاف علی خاں صاحب مرحوم نواب صاحب کے بردار نسبتی اور خالہ زاد بھائی بھی تھے۔سیده نواب مبار که بیگم صاحبہ فرماتی ہیں کہ ان کی تعلیم و تربیت اور شادی وغیرہ سب نواب صاحب نے کی تھی اور کرنل صاحب حضرت اقدس کے عہد مبارک میں قادیان بھی آئے تھے۔کرنل صاحب کے صاحبزادے نے مکرم میاں رشید احمد خاں صاحب تحریر کرتے ہیں کہ ان کے قبول احمدیت میں بہت بڑا دخل حضرت نواب صاحب کے ساتھ ابتدائی زندگی میں تعلق اور ان کی تربیت کا تھا، ان ہی امور کا نتیجہ تھا کہ کرنل صاحب قبول احمدیت سے قبل احمدیت کے متعلق بہت اچھے خیالات رکھتے تھے اور احمدیت سے قبل ہی انہوں نے اپنے بیٹے