اصحاب احمد (جلد 2) — Page 430
430 مساعی کے زیر عنوان مرقوم ہے۔جماعت احمدیہ قادیان کے دو جلیل القدر انسان آگرہ میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے اور حضرت نواب محمد علی خاں صاحب رئیس مالیر کوٹلہ ریاست ۹ر اپریل کو آگرہ تشریف لائے ہیں تا کہ بہ نفس نفیس فتنہ ارتداد کے حالات اور واقعات کا مطالعہ فرما ئیں اور مبلغین کو ضروری و مناسب ہدایات دیں ان بزرگوں کی تشریف آوری انشاء اللہ تعالیٰ مبلغین جماعت احمدیہ قادیان کے جوش ایمانی اور خدمت دینی میں خاص ولولہ پیدا کرے گی۔“ نیز دوسری جگہ مرقوم ہے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے ۲۳ اپریل کی شام کو علاقہ ارتداد سے واپس تشریف لے آئے ہیں۔حضرت نواب صاحب فی الحال وہیں تشریف رکھتے ہیں۔“ پھر لکھا ہے: ۳۰۵ حضرت نواب محمد علی خاں صاحب علاقہ ملکانہ سے واپس قادیان آگئے ہیں۔آپ نے مسلسل کئی روز با وجود شدت گر ما علاقه ملکانہ میں دورہ فرمایا اور کئی کئی میل پیدل چلے۔اللہ تعالیٰ اجر جزیل بخشے۔شیخ یعقوب علی صاحب ایڈیٹر الحکم بھی تشریف لے آئے۔“ اقارب کو تبلیغ وَانْذِرُ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ کے مطابق اقارب ہمدردی ہمدردی کا زیادہ استحقاق رکھتے ہیں۔اس ارشادالی کے مطابق حضرت نواب صاحب نے اپنے اقارب کو بھی ہر رنگ میں بہت نرمی اور ملاطفت اور حکمت اور موعظت کے رنگ میں تبلیغ کی چنانچہ آپ کے بڑے بھائی خان احسن علی خاں صاحب قادیان بھی آئے اور حضرت اقدس نے انہیں ۱۸ جنوری ۱۹۰۴ء کو تبلیغ کی یہ خاکسار مؤلف کے والد بزرگوار بھی غالبا لا ہور کا ذکر فرماتے ہیں کہ سر ذوالفقار علی خاں صاحب حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حضور نے دنیوی امور میں حد درجہ انہاک کو ترک کرنے کی تلقین فرمائی گوطرز خطاب عام تھا۔لیکن حاضرین سمجھتے تھے کہ سر موصوف کو وعظ ونصیحت کی جارہی ہے۔افسوس کہ نواب صاحب کے بھائیوں میں سے کوئی بھی حمد الحکم پر چہ ۰۴-۲-۱۰ اور البدر ۰۴-۲-۱۱-۰۴-۲-۲۴ میں وہ تقریر درج ہے جو حضور نے خان احسن علی خاں صاحب اور ان کے مشیر اعلیٰ کے سامنے فرمائی تھی۔