اصحاب احمد (جلد 2) — Page 428
428 خدمت پر مامور ہیں اس لئے جہاں جہاں وہ حضرت خلیفہ اسیح کی ہدایت کے مطابق جاویں گے وہاں چندوں کی تحریک بھی ساتھ ساتھ کریں گے۔۔۔۔امید ہے ہمارے 66 احباب انہیں ان کاموں میں ہر طرح سے مدد دے کر عنداللہ ماجور ہوں گے۔“ الہام الہی کے بعد نواب صاحب نے حتی المقدور خوب تبلیغ کی اور کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ کے خاندان کے بعض افراد بھی احمدی ہوئے۔اس ذکر پر مکرم میاں محمد عبدالرحمن خاں صاحب بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ لا رڈارون وائسرائے ہند نے نواب صاحب کو تحریر کیا کہ ایسا لٹریچر بھجوائیں جو سری نگر میں قبر مسیح ہونے پر روشنی ڈالے چنانچہ آپ نے لٹریچر بھجوا دیا۔اس کے بعد لارڈ موصوف سری نگر گئے اور حضرت مسیح علیہ السلام کی قبر پر بھی گئے گویا اس طرح شاہ انگلستان و ممالک محروسہ کے نائب پر بھی آپ اتمام حجت کا ذریعہ بنے تبلیغ کا جذبہ جس قدر شدت اختیار کر چکا تھا آپ سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کی زبانی سنیئے۔فرماتی ہیں: اپنا پر ایا، غریب امیر جو بجز کسی خاص مقصد کے ملنے آتا اس سے گفتگوضرور تبلیغی ہو ہی جاتی۔اکثر میں پوچھتی کہ کون آیا تھا فلاں آیا تھا کیا بات چیت ہوئی ؟ تو فرماتے وہی موضوع جو ہم لوگوں کے پاس ہے اور کیا ؟ یہ ہی ذکر آ گیا تھا اس پر اس کو ذرا سمجھا دیا وغیرہ۔ایک عزیز کا لڑکا جس کو وظیفہ دے کر قادیان میں تعلیم دلوائی باہر جا کر ملازمت کے سلسلہ میں مرتد ہو گیا۔اس کا بہت رنج تھا۔ایک دن وہ اتفاق سے آ گیا۔نماز عشاء کے بعد سے صبح کی اذان ہوگئی باتوں کے جوش میں وقت کا دھیان نہ رہا۔وہیں باغ میں کھڑے اور بیٹھے۔اس کو سمجھاتے سمجھاتے رات گزر گئی ، آئے تو اسی طرح تازہ دم تھے گویا ابھی گئے تھے۔خطوط تبلیغی اکثر لکھتے تھے۔اکبر الہ آبادی مشہور شاعر کو بھی لکھا تھا جس کا عنوان اکبر ہی کا ایک شعر تھا وقت پیری آگیا اکبر جوانی ہو چکی خواب غفلت سے اٹھو پیدا ہوئی آثار صبح ان سے ایک بار ملاقات ہو چکی تھی۔“ ارتداد ملکانہ کے ایام میں حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی ذات والا صفات نے جو شاندار کام سرانجام دیا۔تاریخ احمدیت میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔کل وابستگان اسلام کو اس وقت یہ اچھی طرح احساس ہو گیا کہ حق تبلیغ صرف احمدی ہی ادا کر سکتے ہیں اور چودھری افضل حق سرغنہ احرار جیسا معاند بھی خراج تحسین ادا کئے بغیر نہ رہ سکا۔معززین نے اپنے خرچ پر وہاں کئی کئی ماہ رہ کر اور ہر طرح کی صعوبتیں برداشت کر کے جو تیرہ سوسال قبل کے سے جذبہ اشاعت اسلام کا مظاہرہ کیا اس وقت اس کی تفصیل کا مقام نہیں۔اس