اصحاب احمد (جلد 2) — Page 425
425 نکل کر اس صداقت کو پر کھا اور مانا تم نے کیوں ایسا نہ کیا۔یہ بھی تم میں سے ہی تھا اور تمہاری طرح کا ہی انسان تھا۔چونکہ خدا تعالیٰ نے آپ کا نام حجتہ اللہ رکھا آپ کو بھی چاہتے کہ آپ ان لوگوں پر تحریر سے تقریر سے ہر طرح سے حجت پوری کر دیں۔اصل میں اس ساری قوم کی حالت قابل رحم ہے۔عیش وعشرت میں گم ہیں دنیا کے کیڑے بنے ہوئے ہیں۔اور فنافی یورپ ہیں۔خدا سے اور آسمان سے کوئی تعلق نہیں۔جب خدا کسی کو ایسی قوم میں سے نکالتا اور اس کی اصلاح کرتا ہے تو اس کا نام اس قوم پر حجت رکھتا ہے۔ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَجِئْنَا بِكَ عَلى هَؤُلَاءِ شَهِدًا آنحضرت صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا تھا اس نے کچھ کہا تھا تو آپ نے فرمایا بس کر اب تو میں اپنی ہی امت ۲۹۸ پر گواہی دینے کے قابل ہو گیا ہوں۔مجھے فکر ہے کہ میری امت پر گواہی کی وجہ سے سزا ملے گی۔حضرت عیسی کو اللہ تعالیٰ نے کلمہ اللہ خصوصیت سے کیوں کہا اس کی وجہ یہی ہے کہ ان کی ولادت پر لوگ بڑے گندے اعتراض کرتے تھے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے ان کو ان الزاموں سے بری کرنے کے لئے فرمایا کہ وہ تو کلمۃ اللہ ہیں۔ان کی ماں بھی صدیقہ ہے یعنی بڑی پاکباز اور عفیفہ ہے ورنہ یوں تو کلمتہ اللہ ہر شخص ہے، ان کی خصوصیت کیا تھی چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کلمے اتنے ہیں کہ وہ ختم نہیں ہو سکتے۔ان ہی اعتراضوں سے بری کرنے کے واسطے اللہ تعالیٰ نے ان کو کہا کہ وہ شیطان کے مس سے پاک ہیں ورنہ کیا دوسرے انبیاء شیطان کے ہاتھ سے مس شدہ ہیں جو نعوذ باللہ دوسرے الفاظ میں یوں ہے کہ ان پر شیطان کا تسلط ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ شیطان کو کسی معمولی انسان پر بھی تسلط نہیں ہوتا تو انبیاء پر کس طرح ہوسکتا۔اصل وجہ صرف یہی تھی کہ ان پر بڑے اعتراض کئے گئے تھے اسی واسطے ان کی بریت کا اظہار فرمایا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَا كَفَرَ سُلَيْمَنُ کوئی کہے کہ انبیاء بھی کا فر ہوا کرتے ہیں نہیں ایسا نہیں لوگوں نے کا ان پر اعتراض کیا تھا کہ وہ بت پرست ہو گئے تھے۔ایک عورت کے لئے اس اعتراض کا جواب دیا۔یہی حال ہے حضرت عیسی کے متعلق۔یہ الہام جہاں نواب صاحب کی شان کو بطور حجت پیش کرتا تھا۔وہاں آپ کے لئے زبر دست محرک تھا کہ آپ اپنی تبلیغی مساعی کو تیز تر کر دیں آپ کے نوشتہ تبلیغی خطوط سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ آپ تبلیغ کے لئے بہانہ ڈھونڈتے تھے۔کسی نے خیمہ حاصل کرنے کے لئے خط لکھا تو خدمت بھی کر دی اور حق تبلیغ بھی ادا کر دیا یا بھائی نے واپس آنے کے لئے تحریک کی تو نواب صاحب نے اس موقعہ کو غنیمت جان کر اس سے پورا پورا فائدہ اٹھایا آپ کے خاندان کے تعلق میں جو نشانات ظاہر ہوئے وہ خاص طور پر افراد خاندان پر حجت تھے جن کی تفصیل دوسری جگہ آچکی ہے خاص طور پر اے سیف والانشان آپ کے بھائیوں کے لئے حد درجہ واضح