اصحاب احمد (جلد 2) — Page 417
417 مولوی محمد حسین بٹالوی۔مؤلف ) کو لکھا۔۔۔مولوی عبد الکریم صاحب تشریف لائے مولوی عبداللہ صاحب بقیہ حاشیہ: - منشی صاحب مکرم سلامت۔سلام۔میں آپ کو اسی لقب سے مخاطب کرتا ہوں جس لقب سے ایام طالب علمی میں آپ کو مخاطب کرتا تھا۔اللہ اللہ کیا سچا مقولہ ہے کہ یار زندہ وصحبت باقی۔آپ کا مدرسہ سے جانا اور پھر پتہ تک کا مفقود ہو جانا۔طرح طرح کی آپ کی نسبت افواہوں کا سننا۔خلاصہ یہ کہ اب تک مجھ کو آپ کا پتہ نہ معلوم تھا۔ایک دفعہ سردار بلونت سنگھ صاحب سے آپ کی بابت سنا تھا مگر انہوں نے بھی پورا پتہ نہ دیا۔الحمد للہ کہ آپ نے سبقت کی میں امید کرتا ہوں کہ میرے اس عذر کو معقول سمجھیں گے کہ آپ نے مدرسہ چھوڑ کر کبھی بھی مجھ کو اپنا پتہ تک نہ بتلایا۔میں اس وقت جب کہ لکھ بھی نہ سکتا تھا۔دو چار سے آپ کی بابت پوچھا پتہ نہ چلا بلکہ ایک دو دفعہ لدھیانہ میں آپ کی تلاش بھی کی مگر بے سود۔آخر خاموش ہو گیا۔چونکہ مجھ کو آپ کی شاگردی کا شرف حاصل ہے اور آپ کے حسن اخلاق نے اپنے شاگردوں کے دل کو مسخر کر لیا تھا۔اس لئے ا بار ہا آپ کا ذکر خیر آتا رہا۔منشی صاحب ! زمانہ نے بڑے انقلاب کھائے آپ پلیڈ ر بنے اور معلوم نہیں آپ کو کہاں تک جھوٹ سچ سے سابقہ پڑا اور کہاں تک کامیابی ہوئی اور اب آپ غالباً سفید ریش ہوں گے۔اور پیری کی برف باری شروع ہوگئی ہوگی۔کیونکہ آپ کا یہ شاگرد جوان ہوا۔وارڈ سکول سے ایچی سن کالج لاہور میں ۱۸۹۱ء تک رہا۔پھر کورٹ کھلنے پر گھر آیا۔اب ریش سفید ہونے لگا ہے۔آپ کے اس وقت کے عقائد یہ تھے کہ مجھ کو آپ ایک ہند وشیعہ نما معلوم ہوتے تھے۔مولوی رجب علی خاں صاحب کے گھرانے کے اثر سے آپ بظاہر ہندو بہ باطن مسلمان اور پھر شیعہ مسلمان نظر آتے تھے اور میں اس وقت شیعہ تھا۔اور میری شیعیت کو آپ نے اور پختہ کیا۔آپ مدرسہ سے گئے۔تماشا کا پردہ گرا۔زمانہ نے دوسرا ایکٹ شروع کیا، لالہ دیوی پر شاد آئے۔سخت گیر اور سخت متعصب تھے۔خیر اسی طرح زمانہ گزرتا گیا میرے اعتقادات میں رفتہ رفتہ تبدیلی شروع ہوئی۔تحقیقات کے سہارے اور خداوند تعالیٰ کے فضل سے دل میں جنبش ہوئی ، رفتہ رفتہ مجھ کو شیعیت سے بیزار ہونا پڑا۔اور اس سے بیزار ہوتے ہی اس شخص سے واسطہ ہوا کہ جس کا انتظار زمانہ کرتا تھا ، اور شیعہ سنی تو دست بدعا تھے آخر منادی نے ندا کر دی کہ جس نے آنا تھا آ گیا، وقت کا مجدد۔ہندوؤں کا کرشن امام آخر الزماں مسیح موعود اور مہدی معہود آ گیا۔محض خدا کے فضل نے رہبری کی اور اس امام کے ہاتھ میں ہاتھ دے دیا۔۱۸۹۰ء سے مجھ کو اس تعلق کا فخر حاصل ہے آپ اول تو میری عبارت سے سمجھ گئے ہوں گے۔مگر بہ نظر احتیاط ظاہر کئے دیتا ہوں کہ یہ رسول وقت حضرت مرزا غلام احمد ہیں۔مجھ کو معلوم نہیں کہ آپ کے اعتقادات وہی سابقہ ہیں یا