اصحاب احمد (جلد 2) — Page 407
407 کرتا ہے تا کہ بزرگ نفس احباب کے انفاس قدسیہ سے دعاؤں کے رنگ میں استفادہ ہو سکے جولوگ دعاؤں کی قدر و قیمت سمجھتے ہیں وہ اس طرز کی خدمت کی وقعت کو پوری طرح سمجھ سکتے ہیں دعاؤں کے لئے کسی نہ کسی قسم کے تعلق کی ضرورت ہوتی ہے۔ایک شخص کا واقعہ احباب کو معلوم ہے کہ اس کا قبالہ گم ہو گیا۔ایک بزرگ کی خدمت میں حاضر ہو کر دعا کے لئے عرض کیا۔فرمایا حلوالا کر پیش کرو ، وہ شخص بازار کولوٹا۔لیکن یہ خیال بھی اسے آتا تھا کہ اچھے بزرگ ہیں کہ دعا کی درخواست کرنے کے لئے حاضر ہوا اور انہوں نے حلوے کی فرمائش ڈال دی۔خیر حلوائی سے جو حلوا مانگا تو وہ ایک ورق میں ڈال کر دینے لگا۔نظر جو پڑی تو یہ وہی گم شدہ قبالہ تھا جو اس نے لے لے لیا اور دوسرے ورق میں حلوا ڈلوا کر لے گیا۔اس بزرگ نے کہا کہ جا حلوا لے جا۔مجھے اس کی ضرورت نہ تھی۔صرف اس بات کی ضرورت تھی کہ دعا کے لئے تجھ سے کسی قسم کا تعلق پیدا ہو جائے۔سوایسے بزرگ نفس ایسے تحفہ تحائف کا اکثر و بیشتر حصہ دوسرے ضرورت مندوں کے احتیاج کے سد باب یا حد درجہ محتاجوں کے سد رمق کے مصرف میں لے آتے ہیں۔مکرم عرفانی صاحب فرماتے ہیں کہ حضرت مولوی صاحب عبدالکریم صاحب قلاش نہ تھے اور نہ محتاج حضرت نواب صاحب کبھی کبھار اظہار عقیدت کے طور پر کچھ نذرانہ وغیرہ پیش کر دیتے تھے۔یہ تھا دوا تحابوا پر عمل تھا۔مکرم میاں محمد عبداللہ خاں صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضرت والد صاحب اس رنگ میں حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب اور کئی ایک بزرگوں کی خدمت کرتے رہتے تھے۔دوسری جگہ ذکر کیا گیا ہے کہ اسی عقیدت کے جذبہ کی بناء پر آپ مدت العمر حضرت خلیفتہ اسی اول کی خدمت میں کھانا بھجواتے رہے۔اقارب سے حسن سلوک اقارب سے حضرت نواب صاحب بہت ہی حسن سلوک اور مروت سے پیش آتے تھے۔رسوم کا ذکر کرتے ہوئے اس بارہ میں سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ ”رسوم کی بابت نواب صاحب ہمیشہ کہتے تھے کہ میں ان سے بہت ڈرا ہوا ہوں۔ان کے بدنتائج بہت دیکھے ہیں اسی لئے ان کا زیادہ مخالف ہوں۔یہ ایک کیڑا ہے اگر لگ جائے تو بڑھتا ہی ہے کم نہیں ہوتا اور اس بات میں کیا حرج ہے اتنے میں کیا ہوتا ہے۔یہی کہتے کہتے آدمی اسی چکر میں پھر گرفتار ہو جاتا ہے جس سے بمشکل نکلا تھا۔ان کا خیال تھا کہ جو رسوم خلاف شرع نہیں ہیں وہ انسان کبھی کرلے کبھی چھوڑ دے اور ان کا پابند نہ ہو جائے تو اس حد تک بے شک حرج نہیں۔مگر اپنے تشدد کی وجہ یہ بیان کرتے تھے کہ عام مسلمان اب رسموں میں اس بری طرح جکڑے گئے ہیں کہ جب تک ان کا پوری طرح قلع قمع نہ کیا جائے گا۔۔اس بلا سے چھٹکارا ممکن نہیں جس طرح نشے کا لپکا جب