اصحاب احمد (جلد 2) — Page 387
387 طبع ہوا۔کتاب کے سرورق پررَبِّ يَسِرُوَلا تعسر وتَمَمُ بِالْخَيْر مرقوم ہے قاعدہ ۸۶ اسباق پر مشتمل ہے۔بچوں کی خاطر کتابت بہت موٹی رکھی گئی ہے۔چودہ اسباق میں حروف تہجی کوختم کیا گیا ہے۔قاعدہ میں آیات قرآنیہ کے ٹکڑے۔چار اسباق میں الحمد اور اس کا ترجمہ بھی دیا گیا ہے۔آپ ۲۲ مارچ ۱۹۰۲ ء کی ڈائری میں تحریر فرماتے ہیں کہ آج سے میں ( نے) دینیات کا دوسرا نمبر بنانا شروع کیا۔اسی طرح نماز کے متعلق ایک ابتدائی رسالہ کی تالیف کا بھی ذکر کرتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں: میں ایک رسالہ ابتدائی جماعت کے لئے نماز کے متعلق لکھ رہا تھا اس میں میں نے ارکان ایمان کا مختصر ذکر کیا تو میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے دریافت کیا کہ پانچ ارکان ایمان یعنی (۱) اللہ تعالی (۲) فرشتے (۳) اللہ کی کتابیں (۴) اللہ کے رسول (۵) آخرت کے ساتھ قد ر خیر ہ وشرہ من اللہ تعالیٰ کا مفہوم بھی درج کیا جائے کہ نہیں۔یہ میں نے بذریعہ حضرت مولانا مولوی نورالدین خلیفہ اسیح اول۔۔۔۔۔۔دریافت کیا۔یہ مغرب کے بعد حضرت عشاء تک مسجد مبارک میں تشریف رکھا کرتے تھے دریافت کیا تھا اس وقت مسجد مبارک وسیع نہ ہوئی تھی۔پس میرے دریافت گو تاریخ طبع درج نہیں لیکن معلوم ہوتا ہے کہ جب ابھی مدرسہ مالیر کوٹلہ جاری تھا اور دوسری طرف مدرسہ الاسلام قادیان سے حضرت نواب صاحب کا گہرا رابطہ ہو چکا تھا تب یہ تالیف ہوا۔یہ ۱۹۰۰ء کا سال ہی ہے جب آپ مدرسہ تعلیم الاسلام قادیان کے بھی ڈائریکٹر مقرر کر دئے گئے تھے۔اواخرا۱۹۰ء میں آپ قادیان چلے آئے اور آپ نے مدرسہ مالیر کوٹلہ بند کر دیا۔مکرم بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی (درویش) فرماتے ہیں مجھے خوب یاد ہے کہ جب مالیر کوٹلہ کے مدرسہ کا سامان قادیان آیا تو ان میں یہ قاعدے بھی تھے اور یہ قاعدہ مدرسہ تعلیم الاسلام میں پڑھایا جاتا تھا۔نواب صاحب نے ۲۱ جنوری ۱۹۰۲ء کو حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں چارا مور تحریر کئے تھے۔چنانچہ اس روز ڈائری میں تحریر فرماتے ہیں۔مرسوم تقدیر کا مسئلہ جو سنیوں میں ہے اور قرآن شریف میں امنت بااللہ کے ساتھ صراحت سے ضم * نہیں ہے کیا اس کو اپنے رسالہ میں میں اس طرح جس طرح حدیثوں میں ہے درج کروں۔۔۔تقدیر کے مسئلہ میں میرے سوال کو نہ سمجھ کر حضرت اقدس نے تقدیر پر بڑی لطیف گفتگو فرمائی۔شام کو میں نے پھر سوال کیا مگر میرا سوال چونکہ میرے مفہوم کو ظاہر نہ کر سکا اس لئے پھر مغالطہ ہوا۔مگر حضرت مولانا مولوی نورالدین صاحب نے * یہ لفظ پڑھا نہیں جاتا۔مؤلف