اصحاب احمد (جلد 2) — Page 377
377 ۲۶۸ معتمدین بذریعہ نواب محمد علی خاں صاحب۔سید محمد احسن صاحب مرزا بشیر احمد صاحب۔خلیفہ رشید الدین صاحب مولوی شیر علی صاحب پیش کرائے جائیں اور ان حضرات کی خدمت میں نہایت ادب سے التماس کی جائے کہ اس درخواست کو بہت جلد آئندہ کے اجلاس میں پیش کرانے کا انتظام فرما دیں۔بنظر احتیاط حضرت امیر المومنین نے پسند فرمایا کہ اس شوریٰ کی تمام کارروائی بالخصوص قاعدہ نمبر ۱۸ کی ترمیم اپنی اپنی جماعتوں میں سنا کر ان کے فیصلے کی اطلاع دیں۔سو اس قاعدے کی تبدیلی کے متعلق نمائندگان نے چھیاسٹھ جماعتوں کے احباب کے دستخطوں سے درخواستیں سیکرٹری صاحب کے پاس ۲۶ / اپریل سے پہلے پہلے جو جماعت کے قریباً تین چوتھائی کی آواز تھی بھجوائیں۔چنانچہ مجلس معتمدین نے قوم کی اس درخواست کو اپنے ۲۶ / اپریل کے اجلاس میں منظور کر کے ریزولیوشن پاس کیا کہ: وو ہر ایک معاملہ میں مجلس معتمد بن اوراس کی ماتحت مجلس یا مجالس اگر کوئی ہوں اور صدرانجمن احمد بی اور اس کی کل شاخہائے کے لئے حضرت خلیفہ اسیح مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ ثانی کا حکم قطعی اور ناطق ہوگا۔“ قاعدہ میں ترمیم اور ان جماعتوں کے اسماء کا اعلان نواب صاحب کی طرف سے بحیثیت سیکرٹری مجلس و کلاء ہوا الفضل بابت ۶ مئی ۱۹۱۴ء (ص۲۴) و منصب خلافت کے ابتدائی سرورق کا اندرونی صفحہ ) اس تعلق میں حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی بیان فرماتے ہیں کہ ” مجھے حضرت نواب صاحب نے ذیل کا رقعہ بھیج کر بلوایا: شیخ صاحب السلام علیکم۔ایک ضروری کام کے لئے آپ کی امداد کی ضرورت ہے۔بس ابھی ذرا آجائیں بہت ضروری کام ہے۔بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ( پتہ ) شیخ عبدالرحمن صاحب قادیانی تاجر محمد علی خاں حضرت نواب صاحب قبلہ نے مجھے سیدنا حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وصال کے بعد پیدا شدہ فتنہ کے سلسلہ میں پنجاب میں مبائع جماعتوں کی خدمت میں ان کے امراء یا پریذیڈنٹوں کے ذریعہ امر خلافت سے متعلق بعض برسراقتدار ممبران صدر انجمن احمد یہ قادیان کے پیدا کردہ فتنہ کے متعلق سید نا حضرت اقدس خلیفتہ المسیح الثانی کی تجاویز پیش کر کے ان پر غور و خوض کے بعد فیصلہ کرنے اور قاعدہ نمبر ۱۸ کی ترمیم کے متعلق اپنی آراء مرکز میں بجھوانے وغیرہ کے سلسلہ میں فوری طور سے روانہ ہونے کا حکم دیا تھا چنانچہ میں نے پشاور تک کی جماعتوں میں پہنچ کر اس خدمت کو ادا کیا اور تمام حالات کی اطلاعات واپس قادیان پہنچ کر عرض کر دی تھیں۔جماعتوں کے اخلاص اور خلافت ثانیہ سے وابستگی کے واقعات بھی عرض کر دئے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے سارا کام حسب دلخواہ عمل میں آ گیا۔فالحمد اللہ علی ذلک۔