اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 364 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 364

364 کہ میاں صاحب کا خلیفہ ہونا ہم پسند نہیں کرتے فلاں شخص خلیفہ ہو۔اور اپنا ہم خیال تجویز کرتے مگر معلوم ہوتا ہے کہ ان کو اپنے ہم خیال پر بھی اطمینان نہ تھا اور اس لئے وہ سرے سے ہی خلافت اڑانا چاہتے تھے۔اور بار بار حضرت خلیفہ اسی مرحوم کے زمانہ (میں) خلافت کی خلاف ورزی کی اور اس بات پر توبہ کی اور پھر اپنا خیال نہ چھوٹا جو آخراب پھوٹا۔) چھوٹا۔راقم حمد علی خان) نواب صاحب وقتی حضرت خلیفہ المسح اول وانتخاب حضرت خلیفہ المسیح الثانی حضرت خلیفہ امسیح سے حددرجہ اخلاص کا نتیجہ ہی تھا کہ آخری دو ہفتے نواب صاحب کو حضور کی عیادت وخدمت کا بہترین موقعہ میسر آیا۔ڈاکٹروں نے قصبہ سے باہر کسی کھلی جگہ کا مشورہ دیا۔پہلے تو بورڈ نگ مدرسہ تعلیم الاسلام کی بالائی منزل کی تجویز ہوئی لیکن نواب صاحب نے اپنی کوٹھی ( دار السلام ) کا ایک حصہ خالی کر دینے کا انتظام کیا اور آپ کی مکرر درخواست پر حضور نے وہاں جانا پسند فرمالیا۔یہ نقل مکانی ۲۷ فروری ۱۹۱۴ء کو بروز جمعہ قبل عصر عمل میں آئی۔یہاں حضور کی علالت کے باعث حضرت ام المؤمنین اطال اللہ بقاء با اور حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب (خلیفہ اسیح الثانی) مع اہل بیت نے بھی اقامت فرمائی۔اس کوٹھی کا منظر حضور کو پسند تھا۔چنانچہ ۲۸ فروری ۱۹۱۴ء کو نواب صاحب کو مخاطب کر کے فرمایا کہ یہ مکان بہت خوب ہے۔اس میں مجھے بہت آرام ہے خدا آپ کو جزائے خیر دے۔اور غریبوں کے پاس کیا ہے؟ اب یہ مکان تمام تو جہات اور سرگرمیوں کا مرکز بن گیا اور یہاں بہت سے تاریخی واقعات حضور کا آخری وصیت تحریر فرما نا۔اسے مولوی محمد علی صاحب سے تین بار پڑھوانا اور اس وصیت کو نواب صاحب کے پاس سر بمہر محفوظ رکھوانا حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کا خاندان حضرت مسیح موعود سے خلافت ثانیہ کے بارہ میں شوری کرنا اور حضور کا ۱۳ مارچ کو بروز جمعہ بحالت نماز سوادو بجے وصال پانا وقوع پذیر ہوئے۔۲۶۲ ۱۴ مارچ کو صدرانجمن کا اجلاس ہوا اور بعد ازاں مسجد نور میں خلافت ثانیہ کا انتخاب عمل میں آیا۔اس بارہ میں معزز الحکم رقمطراز ہے۔مذکور بالا تمام امور الحکم جلد ۱۸ نمبر اصفحہ ۱ ا کالم اپر چہ ۲۸ فروری ۱۹۱۴ء والفضل جلدا نمبر ۳۸ صفحه ا کالم اپر چہ بدھ مورخہ ۴ / مارچ ۱۹۱۴ء، نمبر ۳۹ صفحه ا کالم ۲ پر چہار مارچ ۱۹۱۴ء وآئینہ صداقت صفحه ۱۷۶ میں مندرج ہیں۔