اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 349 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 349

349 سیالکوٹی کو پیش کیا جائے (ادھر میرے خیال میں بھی تحریک تھی کہ میں حضرت میاں صاحب سے دریافت کروں کہ رفع فتنہ کے لئے ہم کہاں تک اپنے خیالات چھوڑ سکتے ہیں۔چونکہ میاں صاحب نے خود ہی میرے سوال کا جواب دینا شروع کر دیا اس لئے مجھے کو دریافت کرنے کی ضرورت نہ ہوئی ) اور پھر میاں صاحب نے فرمایا کہ اگر وہ اس کو بھی نہ مانیں تو پھر ان میں سے جس کسی کو وہ پسند کریں خواہ خواجہ کمال الدین صاحب ہوں یا مولوی محمد علی صاحب یا کوئی اور۔ہم بدل اس کو منظور کریں گے۔اور بموجب آیت کریمہ يايها الذين امنوا اطيعوا الله واطيعوا الرسول واولى الامر منكم فان تنازعتم - الخ ہم اپنے اختلافی مسائل کو ضرور پیش کریں گے۔ہاں اگر خلیفہ ہم کو ان مسائل سے روک دے گا تو ہم خاموشی اختیار کریں گے اور یہی ادب عمل صحابہ سے ثابت ہے اور ہم پورے مطیع خلیفہ کے ہوں گے۔ہاں یہ شرط ضرور ہے کہ خلیفہ بلا شرط ہو اور مقتدر ہو خواہ ہمارے خیال سے متفق ہو یا نہ ہو اس سے ہم کو غرض نہیں۔مگر مقتدر ہونا ضروری ہے اور وصیت سے بھی ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کیونکہ مقتدر ہی درگز ر اور چشم پوشی کر سکتا ہے۔جب یہاں تک میاں صاحب کا میں (نے) خیال دیکھا تو میں نے ان سے اتفاق رائے ظاہر کر کے کہا کہ آج میرا دل ایک بڑے بوجھ سے ہلکا ہو گیا اور اس وقت سے برابر میاں صاحب اور میں کسی خاص شخص کی خلافت سے بالکل خالی الذہن ہو گئے۔اس تصفیہ کے بعد میاں صاحب مکان میں آئے اور ایک مضمون لکھا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس وقت ہم کو سر دست تمام اختلافی امور چھوڑ دینے چاہئیں اور اس وقت تک کہ حضرت خلیفۃ اسیح علیہ السلام یعنی مولوی نورالدین صاحب تندرست ہوں یا ان کی جگہ اللہ تعالیٰ کوئی خلیفہ مقرر کر دے کسی قسم کا تذکرہ اور اختلاف نہ رکھیں اگر کوئی شخص اس قسم کی بات چھیڑے تو اس کے پاس سے اٹھ جائیں اور تمام جماعت دعاؤں میں لگ جائے۔یہ ایک مصیبت کا وقت ہم پر ہے پس اللہ تعالیٰ سے ہی اس کی استمداد چاہیں تاوہ ہماری نصرت فرمائے اور ہم کو تفرقہ سے بچائے۔اس وقت ہمارا آقا بیمار ہے اور وہ ہمارے اختلافات کے متعلق کچھ خبر نہیں رکھتا اور نہ وہ اس کا تدارک کر سکتا ہے اس لئے اس وقت ایسی گفتگو اور خیالات نہایت نامناسب ہیں۔چنانچہ یہ مضمون لکھ کر میاں صاحب نے مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے کے پاس بھیج دیا کہ “ آپ اگر مناسب تصور کریں اپنے اور دیگر احباب کے دستخط کر دیں اور کرا دیں تا کہ قوم میں جواس وقت اضطراب پھیلا ہوا ہے وہ جاتا رہے۔اس پر مولوی صاحب نے لکھا کہ بیرونجات ( میں ) یہ اختلاف نہیں ہے اس تحریر سے خواہ مخواہ اختلاف پیدا ہو گا۔ہاں قادیان میں ایک طوفان بے تمیزی آیا ہوا ہے اور لاہور میں بھی ہے اس لئے آپ ایک تقریر کر دیں اور میں بھی ایک تقریر کر دوں گا اور یہ آپ کو بہت عمدہ خیال پیدا ہوا ہے۔اس پر اس مضمون کو التوا میں ڈال دیا گیا اور بعد عصر حضرت میاں صاحب نے اسی مضمون بالا کی تقریر کی