اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 338 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 338

338 کے میں نے لکھا تھا بہت رنج ہوا ہے۔حضور کو معلوم ہے کہ میں نے انہی وجوہ سے انجمن میں شرکت بعد اس معاملہ خلافت کے چھوڑ دی تھی اور کنج عافیت میں بسر کرتا تھا۔گزشتہ دسمبر سے محض حضور کے حکم سے پھر شریک ہونے لگا تھا اور جیسا کہ میرا خیال تھا پھر نا گوار امور پیش آگئے جو حضور کے رنج کا موجب ہوئے میں نے اس لئے عریضہ نہ لکھا تھا کہ فساد بڑھے بلکہ محض اپنی غلطی پر تنبیہ کا خیال تھا۔اسی طرح میں نے عرض کیا تھا تا کہ جو کچھ میرے خیال میں غلطی ہو اس کی حضور اصلاح فرماویں تا کہ ان غلط خیالات سے اجتناب کیا جائے اور جو طریق ثواب ہو اس کو اختیار کیا جائے۔مگر وائے برحال ما کہ بجائے اس کے کہ حضور ہماری غلطی سے متنبہ فرماتے یا خاموشی اختیار فرمائی یا اب موجب رنج ہوا اس حالت میں اب بھی مناسب خیال کرتا ہوں اور نہایت ادب والتجا سے عرض ہے کہ حضور اب مجھ کو اجازت فرمائیں کہ میں انجمن کی ممبری وغیرہ سے مستعفی ہو جاؤں تا کہ نہ دو خیال ہوں گے نہ کوئی جھگڑ پڑے گا اور نہ حضور کی ناراضگی کا موجب ہوگا۔باقی انجمن میں شریک ہونا اور پھر جھگڑا نہ ہونا اس کی ایسی مثال ہے کہ درمیان قعر دریا تخته بندم کرده بازمی گوئی کہ دامن ترمشو ہوشیار باش بقیہ حاشیہ کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور نے اس واقعہ سے چند روز قبل ایک وصیت لکھ کر شیخ محمد تیمور صاحب کے پاس امانت رکھوادی تھی تا کہ وفات کے وقت کھولی جائے۔اور جیسا کہ جماعت کے احباب جانتے ہیں اس میں حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کو خلیفہ بنانے کا ارشاد تھا۔اس وصیت کو کالعدم کرنے کی خاطر ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب نے جو کچھ کیا وہ محولہ بالا اقتباس سے ظاہر ہے۔" مکرم بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی فرماتے ہیں کہ یہ وصیت کہیں چھپی نہیں اور کچھ عرصہ بعد حضرت خلیفہ امسیح اول نے شیخ محمد تیمور صاحب سے لے کر تلف کر دی تھی۔(مؤلف) * ڈاکٹر صاحب کے خیال کی تردید خود حضرت خلیفہ اول نے کر دی۔چنانچہ اسی پر چہ الحکم میں (صفحہ ۱۰ کالم ۲ پر ) مرقوم ہے۔۲۲ / جنوری ۱۹۱۱ء ۹ بجے رات۔شیخ تیمور صاحب نے عرض کیا کہ حضور نے جو چند کلمات ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب کو رخصت کرتے وقت فرمائے تھے ان کی نسبت کچھ شور ہوا ہے اور ڈاکٹر صاحب نے جو یہ کہا تھا کہ حضور کی یہی وصیت ہے اس کا بھی چرچا ہے۔فرمایا کہ لوگ تو بے سمجھ ہیں۔یہ تو چند ضروری باتیں تھیں۔“