اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page xxxvii of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page xxxvii

۲۵ میرے پاس یہاں فائل نہیں ہیں۔“ مزید بابت سفر لدھیانہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے لدھیانہ کے سفر اول کے تعلق میں جلد ہذا کے حاشیہ صفحه ۴۷، ۴۸ میں حضور کے دو مکتوبات مورخه ۲۱ فروری ۸۴ء مطابق ۲۲ ؍ ربیع الثانی ۱۳۰۱ ء ھ اور ۲۶ فروری ۸۴ء مطابق ۷ امر ربیع الثانی ۱۳۰۱ھ کا ذکر آیا ہے۔اسلامی تاریخ کا رؤیت ہلال کی رُو سے ایک دن کی تقدیم و تاخیر ممکن ہے اس لئے ۲۱ ؍ فروری مطابق ۲۲ ؍ ربیع الثانی درست ہے گو جنتری کی رو سے ۲۳ / ربیع الثانی ہونا چاہیئے۔لیکن ۲۶ فروری کو جنتری کی رو سے مطابق ۲۸ / ربیع الثانی یا ۲۱ فروری والی تاریخ کی رو سے مطابق ۲۷ ؍ربیع الثانی ہونا چاہیئے تھا اس لئے اس مکتوب کی عیسوی اور اسلامی تاریخوں میں سے کسی ایک میں کسی مرحلہ پر سہو ہوا ہے۔اس کتاب میں قریب کے مکتوبات تاریخوار سمجھے جائیں تو عیسوی تاریخ میں سہو ہوا ہے کیونکہ یہ مکتوبات ۱۳۔۲۱۔۲۶ اور ۲۸ فروری کے ہیں ورنہ اسلامی تاریخ میں سہو سمجھا جائے گا۔ہر دوصورتوں میں لدھیانہ کے سفر اول کے متعلق جو کچھ میں نے کتاب میں تحریر کیا ہے اس پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔مزید بہ تعلق علی گڑھ جلد ہذا میں سرسید احمد کے ذکر میں میں نے یہ تحریر کیا تھا کہ با وجو دقبول احمدیت کے حضرت مولوی نورالدین صاحب اور حضرت نواب صاحب تعلیمی امور کی خاطر اُن سے تعلق رکھتے تھے۔چنانچہ ۹۳-۱۲-۲۳ کا ایک مکتوب حضرت مولوی صاحب کا حاصل ہوا ہے جس سے اس امر کی تصدیق ہوتی ہے۔آپ اس میں نواب صاحب کو تحریر فرماتے ہیں: میں تو علی گڑھ نہ جاسکوں گا۔مگر آپ غالباً عبداللہ کو ملیں گے۔میں ان دنوں اس پر ناراض ہوں کس قدر آزاد ہوا جاتا ہے۔اگر مناسب سمجھیں کچھ نصیحت کر دیں۔“ مراد شیخ عبداللہ صاحب وکیل علی گڑھ ہیں۔مزید بتعلق ۳۱۳ صحابه جلد ہذا میں ۳۱۳ صحابہؓ میں سے بعض کے متعلق معلومات بہ سلسلہ جلسہ سالانہ ۱۸۹۲ء میں نے درج کی ہیں ان میں نمبر ۳۱ میاں فتح محمد صاحب کا بھی ذکر ہے۔ان کے متعلق الفضل بابت ۵۲-۲-۱۶ سے معلوم ہوتا