اصحاب احمد (جلد 2) — Page 291
291 ہمیں خود ان کی ضرورت ہے، اس لئے میری تقریر کسی کی احتیاج کے لئے نہیں اور نہ ہی اس میں کوئی ایسی بات ہے۔ہاں ایک عظیم الشان بات یہ ہے کہ اس عزیزہ کا نکاح ہے جو خدا تعالے کے نشانوں کا ایک نشان ہے پھر اس عظیم الشان انسان کی صداقت کا نشان ہے جو خدا کا عظیم الشان مرسل اور عظیم الشان نبی ہے۔جس کی صداقت اور آیات صداقت کی تجلیات سے زمانہ منور اور بھرا ہوا ہے اور کوئی ملک کوئی علاقہ اور کوئی جگہ خالی نہیں اور کوئی زمین کا خطہ اور آسمان کا افق ایسا نہیں جہاں آپ کی صداقتیں جلوہ گر نہ ہوں اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو کیا حضرت عزیزہ کا وجود اور کیا نکاح کوئی معمولی بات نہیں۔حضرت جری اللہ فی حلل الانبیاء کا وجود جو تمام رسولوں کے کمالات کی حقیقت جامع ہے، آپ کی بیٹی کا نکاح ایک عظیم الشان چیز اور نہایت ہی مبارک تقریب ہے اور بہت بڑی سعادت ہے ان لوگوں کی جن کو یہ تعلق حاصل ہوا ہے۔حضرت مسیح موعود ۲۳۲ ۲۳۳ فرماتے ہیں طوبی لعین رَأَتُنِي قبل وقتی اور فطُوبَى لِلَّذِي عَرَضَنِي أَوْعَرَفَ مَنْ مبارک ہے وہ جس نے مجھے دیکھا اور مبارک ہے وہ جس نے مجھے پہچانا یا میرے پہچاننے والے کو پہچانا۔یہ بہت بڑی سعادت ہے ایک وقت آئے گا جب کہ لوگ حضرت مسیح موعود کے صحابہ کو تلاش کریں گے اور یہ التجا کریں گے کہ کاش ہمیں حضرت مسیح موعود کو دیکھنے والا ہی کوئی دکھائی دے۔ایک وقت آئے گا۔جس وقت بادشاہ کہیں گے کہ کاش ہم مفلس ہوتے۔تنگ دست اور محتاج ہوتے۔مگر مسیح موعود کے چہرہ پر نظر ڈالنے کا موقعہ پالیتے اور ہم مسیح موعود کے صحابہ میں شامل ہوتے اور وہ بادشاہ جو اس سلسلہ میں آنے والے ہیں اس بات پر رشک کریں گے کہ کاش ہمیں یہ تخت حکومت اور سلطنت نہ ملتی مگر مسیح موعود کے در کی گدائی حاصل ہو جاتی۔وہ نہایت حسرت سے اس طرح کہیں گے لیکن ان باتوں کو نہ پاسکیں گے لیکن کیا آپ لوگ کچھ کم درجہ رکھتے ہیں نہیں بلکہ آپ کا درجہ تو یہ ہے۔بندگان جناب حضرت او سر بسر تا جدا در می بینم آپ ان کی حضرت کے غلام ہیں کیا یہ آپ لوگوں کے لئے کچھ کم سعادت ہے کہ روحانی رنگ میں آپ کو تاجدار کہا گیا ہے؟ اب فرمائیے کہ حضرت مسیح موعود کے دیکھنے والا انسان کس سعادت کا مستحق ہے۔پھر جس نے آپ کو دیکھا اور آپ کے ہاتھ سے ہاتھ ملایا اس کا کیا درجہ ہے؟ پھر ایک اور گروہ ہے جو سعادت میں بہت اس رویت اور معرفت مراد مر تبہ رویت و معرفت ہے جس کی نسبت حضرت مسیح موعود نے خطبہ الہامیہ میں فرمایا ہے کہ من فرق بینی وبین المصطفى فما عرفنى ومارائی کہ جس نے میرے اور حضرت محمد مصطفی کے درمیان فرق کیا اور دونوں کو الگ الگ سمجھا اس نے نہ مجھے شناخت کیا اور پہچانا اور نہ ہی دیکھا اور سمجھا پس حضور کے ارشاد کے مطابق حضور کا دیکھنا اور پہچانا ان ہی معنوں میں ہے کہ حضور کومحمد مصطفی " ہی یقین کیا جائے۔