اصحاب احمد (جلد 2) — Page 277
277 کہنا چاہئے کہ عورت ذات میں فطرتا آزادی نہیں میں نے زینب کو بارہ سال کی عمر تک پردہ نہیں کرایا اور ابھی اور کچھ عرصہ پردہ کرانا نہ چاہتا تھا مگر زینب ایک سال قبل سے خود ہی باہر جانے سے رک گئی۔ہم بھیجتے تھے تو بھی بادل ناخواستہ جاتی تھی اس لئے ہم نے یہ دیکھ کر (کہ) خود پردہ کرتی ہے اس کو پردہ میں بٹھلا دیا۔یہی حالت امتہ الحفیظ کی دیکھتا ہوں۔پس اب اس سے زیادہ اور کیا آزادی چھن سکتی ہے ، باقی یہ کہ اہل ہنود کی رسم کے مطابق جہاں رشتہ ہو وہاں آنا جانا لڑکیوں کا بند ہو جائے اور جوں جوں تعلقات بڑ ہیں تو کہیں کونے میں گھس جائیں اور آخر ایک کوٹھڑی میں بند ہو کر روپ چڑہا ئیں۔یہ میرے خیال میں طرز ہی نہیں آتی۔ہندوؤں میں اس لئے یہ پردہ داری تھی کہ سرال والوں کو لڑکیوں کے عیوب کا پتہ نہ مل جائے۔مگر مسلمانوں میں اس کا کہاں رواج ہے۔شریعت نے اس کا کہاں حکم دیا ہے۔پس ہم احمدی قوم کو ضروری ہے کہ اصل اسلام کو پیش کریں اور اہل ہنود کی رسوم کو پس پشت ڈال دیں پس میری سمجھ سے موجودہ حالت میں نہیں آتا کہ لڑکی ( کی) آزادی کیوں رو کی جائے یار کے۔ہفتم: میرے خیال کی تردید کہ لڑکی چھوٹی ہے خود حضرت اقدس فرما چکے ہیں وہ یہ کہ میاں شریف احمد صاحب زینب سے قریباً دو سال چھوٹے ہیں اور لڑکے کا چھوٹا ہونا بہ نسبت لڑکی کے چھوٹا ہونے کے زیادہ خطرناک ہے جس کا تجربہ شاہد ہے مگر چونکہ اللہ تعالیٰ نے اولا د حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ جلد جلد بڑھے گی چنانچہ یہ تفاوت عمر کچھ مضر ثابت نہیں ہوتی۔پھر میرے رشتہ کے متعلق حضرت نے اس سے پہلے انیس سال کی عمر میں شادی کا ارادہ فرمایا۔مگر میں خاموش نہیں ہوا۔کیونکہ حضرت نے ناپسندیدگی ظاہر نہ فرمائی تھی پھر پندرہ سال کی عمر میں شادی کا اظہار فرمایا۔پھر ایک سال اور اس طرح میری امید بڑھتی گئی اور آخر و عدہ الہی کہ حضرت کی اولاد جلد جلد بڑھے گی۔مجھ کو محض تین دن کی مہلت دی گئی۔اور شادی فرما دی اسی طرح میں خیال کرتا ہوں کہ امتہ الحفیظ گو اس وقت کمزور ہے مگر اسی وعدہ کے مطابق جلد بڑھ جائے گی۔یہ اب ایسی عمر آئی ہے کہ وہ بہت جلد بڑھ جائے گی۔ہشتم: سوال که چال چلن یا ایمان اس کے متعلق موجود وقت حالت پر ہی قیاس ہوسکتا ہے ورنہ اعتبار انجام پر ہے اور قبر میں جا کر تو رشتہ قرابت ہو نہیں سکتی اور اس سے قبل کا اعتبار کیا؟ اس وقت کا تجر بہ ظاہر ہے اور پھر جن کی بابت حضرت اقدس کو بڑے بڑے الہام ہوئے وہ مرتد ہو گئے پس اس کے متعلق بھی خداوند تعالیٰ کا فضل ہی ہو تو کچھ ہو سکتا ہے ورنہ انسان کی تدابیر کیا کام کر سکتی ہیں اس لئے بھی مجھ کو جرات ہوئی پس اب حضور غور فرما کر جو پہلو قوی نظر آئے مجھ کو اس کی بابت حکم فرمایا جائے۔اگر رشتہ قابل قبولیت ہو تو قبول فرما کر جلد تر مجھ کو مطمئن فرمایا جائے اور اگر نا قابل قبولیت ہو تو اس سے مطلع فرما کر سبکدوش فرمایا جائے تا کہ دوسری جگہ تلاش رشتہ کروں۔۔