اصحاب احمد (جلد 2) — Page 276
276 کیونکہ اس طرح میری پہلی نصف اولا د حضرت اقدس کے متعلق ہو سکتی تھی۔کیونکہ چار بچوں میں سے دو بچے حضرت اقدس کے اہل بیت میں داخل ہو سکتے تھے تیسرے بہنوں بہنوں کو آپس میں ملنے جلنے میں دقت نہ ہو گی۔یہ خیالات تھے جو مجھ کو اس امر کے محرک تھے۔سوم : مگر اس کے مقابلہ میں مجھ کو یہ خیال ڈراتا تھا کہ میرے لڑکوں کی عمر بڑی خصوصاً عبداللہ خاں کی اور امتہ الحفیظ کی چھوٹی اتنا عرصہ انتظار مشکل اور پھر معلوم نہیں کہ بچے احمدی رہیں گے یا ان کے کیا خیالات ہوں گے۔اس لئے میں جرات نہیں کرتا تھا بلکہ میں نے دوسری جگہ قائم کر دیا۔مگر وہ رشتے ٹوٹ گئے اور جس قدر جلد میں شادی ان بچوں کی کرنا چاہتا تھا وہ نہ کر سکا اور التواء ہو گئی اس پر مجھ کو خیال آیا کہ اب انتظار تو کرنا ہی پڑا ، اب کیوں نہ امتہ الحفیظ صاحبہ کا ہی انتظار نہ کروں اور اس طرح بعض رؤیا بھی پورے ہو جائیں گے۔مگر بچوں کے خیالات سے ڈرتا رہا اب چونکہ کسی قدر عبد اللہ کی بابت اطمینان پیدا ہو گیا۔اور ادھر سنا کہ حضرت اُم المومنین علیها السلام امتہ الحفیظ کے رشتہ کے متعلق فکرمند ہیں تو مجھ کو خیال آیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی جگہ خطبہ ہو جائے اور اس وقت میں کچھ عرض بھی نہ کر سکوں اس لئے میں نے یہ جرات کی کہ اس رشتہ کی تحریک پیش کر دی۔چہارم: مجھ کو یہ خیال ضرور رہا ہے کہ امتہ الحفیظ کا وہ اٹھان بظاہر اس وقت نظر نہیں آتا جو اکثر حضرت اقدس کی اولاد کا ہے بلکہ کچھ کمزور معلوم ہوتی ہیں اور پھر چھوٹی عمر سے لڑکیوں کے رشتوں سے ان کی آزادی میں فرق آ جاتا ہے اور اتنا عرصہ انتظار کرنے میں ممکن ہے کہ لڑکے کا چال چلن ٹھیک نہ رہے اور اسی خیال سے میں ( نے ) کسی احمدی کے ہاں رشتہ اپنے بچوں کا کرنے میں بہت زور نہیں دیا۔کیونکہ گو میرے لڑکے ہیں مگر میرا دل تو وہ نہیں رکھتے۔مگر غیر احمد یوں سے تعلقات میں ان کے ایمان کو خطرہ میں پاتا تھا اس لئے میں کچھ عجیب تذبذب میں تھا اور ہوں اور اسی لئے بدرجہ اولی میں حضرت اقدس کی اولاد کے متعلق اور بھی محتاط رہا ہوں اور ہوں۔اور اب بھی بہت عہد و پیمان کے بعد اور ایک لڑکے کو عرصہ تک آزمانے کے بعد پیش کیا ہے چنانچہ اس کے خطوط اور اپنے خطوط جو اس بارہ میں لکھے گئے ہیں ارسال حضور ہیں ایک خیال نے مجھ کو اور بھی مجبور کیا کہ موت وحیات کا پتہ نہیں بقول حضرت اقدس فی التاخیر آفات میں نے اپنی زندگی میں اس تعلق کو پسند کیا اور ان ہی مصالح سے مجھ کو ان دنوں اور ضرورت محسوس ہوئی۔پنجم : حضرت خلیفہ مسیح الاوّل مولانا نورالدین صاحب مرحوم نے بھی اشارہ اس رشتہ کے متعلق فرمایا تھا۔چنانچہ عبداللہ کے خط سے ظاہر ہوگا۔اس نے بھی جرات کو بڑھایا۔ششم اس خیال کی تردید کہ لڑکی کی آزادی رک جاتی ہے اور اسی خیال سے زینب کا رشتہ میں نے جلدی نہیں کیا۔مگر میں نے دیکھا کہ ہندوستان کی لڑکیوں میں فطرتاً آزادی طبیعت میں نہیں۔یا یوں