اصحاب احمد (جلد 2) — Page 266
266 صاحب رئیس مالیر کوٹلہ کی دختر سے ہو چکا ہے آج ۱۰ مئی ۰۹ ء کو اس کا ولیمہ ہے کیونکہ 9 مئی کو رخصت عمل میں آئی اللہ تعال یہ قران السعدین مبارک کرے اور میرے سید و مولی امام کی ذریت آسمان فضل و کمال کا چاند بن کر ایک جہان کو منور کرے۔“ مکرم میاں محمد عبد اللہ خاں صاحب کے غیر احمدی رشتہ کا انفاخ حضرت نواب صاحب کی قلبی تمنا تھی کہ ان کے بچوں کے رشتے احمدیوں کے ہاں ہوں اور حضرت خلیفۃ المسیح اول اس رائے میں ان سے متفق تھے اس کی تفصیل میاں محمد عبد اللہ خاں صاحب کی زبانی درج ذیل ہے فرماتے ہیں : والد صاحب کی خواہش تھی کہ ہم بھائیوں کے رشتے احمدیوں میں ہوں تا ہم احمدیت میں راسخ ہو جائیں اور دنیوی تعلقات میں پھنس کر احمدیت سے بیگانہ نہ ہو جائیں لیکن اس وقت احمدیوں کے بعض رشتے جو ہمارے سامنے پیش کئے گئے ہمیں بعض وجوہ سے پسند نہ تھے نواب موسیٰ خاں صاحب جو کہ نواب مزمل اللہ خاں صاحب سابق وائس چانسلر علی گڑھ یونیورسٹی کے رشتہ داروں میں سے تھے اور شیروانی خاندان سے ہی ہیں اور عرصہ سے علی گڑھ جا کر آباد ہو چکے ہیں ان کی ایک لڑکی ہمارے خاندان میں مالیر کوٹلہ میں نواب صاحب والی مالیر کوٹلہ کے چھوٹے بھائی صاحبزادہ جعفر علی خاں صاحب سے بیاہی ہوئی تھی ان کی خواہش تھی کہ ہمارے رشتے ان کے ہاں ہوں۔چنانچہ میاں محمد عبد الرحمن صاحب اور میرے رشتے کی گفتگو ہوئی۔والد صاحب کو خیال تھا کہ ریاست کے بعض اقارب جو اپنے ہاں رشتہ کرانے کے خواہشمند ہیں۔رشتہ زیر تجویز میں مزاحم ہوں گے اس لئے ابتداء میں ہی علی گڑھ لکھ دیا تھا کہ اگر آپ کسی مرحلہ پر ہمارے ان اقارب کے زیر اثر آئے تو سلسلہ جنبانی فور اقطع کر دی جائے گی۔ہمارے رشتے طے ہو گئے سب سامان بنا لیا گیا اور ۱۹۱۲ ء یا ۱۹۱۳ء میں قادیان سے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ، صاحبزادی امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ سیده نواب مبارکہ بیگم صاحبہ بیان فرماتی ہیں کہ یو زینب بیگم صاحبہ کا رخصتانہ نہایت سادگی سے ہمارے دار اسیخ سے ملحق مکان سے عمل میں آیا حضرت اماں جان نے سامان کپڑا زیور وغیرہ ہمارے ہاں بجھوا دیا تھا اور چونکہ نواب صاحب کا منشاء تھا کہ حضرت فاطمہ کی طرح رخصت نہ ہو۔سودُلہن تیار ہو گئی تو نواب صاحب نے پاس بٹھا کر نصائح کیں اور پھر مجھے کہا کہ حضرت ام المومنین کی طرف چھوڑ آؤں۔سیدہ ام ناصر صاحبہ والے صحن میں جو سیدہ ام وسیم صاحبہ کی طرف سے سیٹرھیاں اترتی ہیں وہاں حضرت اماں جان نے استقبال کیا اور دلہن کو دارالبرکات میں لے گئیں۔