اصحاب احمد (جلد 2) — Page 240
240 نواب صاحب موصوف خدا تعالیٰ کے مسیح کی دعاؤں سے بیش از پیش فیض اٹھائیں گے اور خدا تعالیٰ کے ان انعام واکرام سے حصہ لیں گے۔جو مبارکہ بیگم کی ذات بابرکات کے لئے اللہ تعالے نے اپنے موعود مامور کے ذریعے وعدہ فرمائے ہوئے ہیں کیونکہ مبارکہ بیگم کے واسطے بہت سے ایسے الہام ہوئے تھے جو اخباروں نیہ حاشیہ: - فضل ہو تو کچھ آرام ملتا ہے ورنہ چالا کی سے کام کیا ہو اور دنیا میں بہشت نہ ہو۔پھر فرمایا بہت لوگ پاس ہونے کے لئے تڑپتے ہیں وہ یا درکھیں کہ اصل بات تو یہ ہے کہ جو اللہ اور رسول کا مطیع ہوتا ہے وہ ہی حقیقی با مراد ہوتا اور یہی حقیقی پاس ہے۔پھر اس معاملہ میں تیسری آیت یہ ہے يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ اس تیسری آیت میں بھی تقویٰ کی تاکید ہے کہ تقویٰ اللہ اختیار کرو اور ہر ایک جی کو چاہئے کہ بڑی توجہ سے دیکھ لے کہ کل کے لئے کیا کیا۔جو کام ہم کرتے ہیں ان کے نتائج ہماری مقدرت سے باہر چلے جاتے ہیں اس لئے جو کام اللہ تعالے کے لئے نہ ہوگا تو وہ سخت نقصان کا باعث ہو گا لیکن جو اللہ کے لئے ہے تو وہ ہمہ قدرت اور غیب دان خدا جو ہر قسم کی طاقت اور قدرت رکھتا ہے اس کو مفید اور مثمر ثمرات حسنہ بنا دیتا ہے۔یہ سب باتیں تقوے اسے حاصل ہوتی ہیں۔اس وقت جو مجمع ہے میں اس کی خوشی کا اظہار کروں تو بعض نادان بدظنی کرینگے مگر بدظنیاں تو ہوتی ہی ہیں۔مجھے ان کی پروا نہیں اور میں کسی رنگ میں مخلوق کی پروا کرنا اپنے ایمان کے خلاف یقین کرتا ہوں۔یہ امرا خلاص اور اسلام کے خلاف ہے۔پس میں صاف طور پر کہتا ہوں کہ اس تقریب کی وجہ سے مجھے بہت ہی خوشی ہے اور کئی رنگوں میں خوشی ہے۔نواب محمد علی خاں میرے دوست ہیں۔یہ نہ سمجھو کہ اس وجہ سے دوست ہے کہ وہ خاں صاحب یا نواب صاحب یا رئیس ہیں میں نے کسی دنیوی غرض کے لئے ایک سیکنڈ سے بھی کم وقفہ کے لئے کبھی ان سے دوستی نہیں کی وہ خوب جانتے ہیں اور موجود ہیں مجھے ان کے ساتھ جس قدر محبت ہے محض خدا کے لئے ہے۔کبھی بھی نہ ظاہری طور پر اور نہ باطنی طور پر ان کی محبت میں کوئی غرض نہیں آئی۔ایک زمانہ ہوا میں نے ان سے معاہدہ کیا تھا۔کہ آپ کے دکھ کو دیکھ اور سکھ کو سکھ سمجھوں گا۔اور اب تک کوئی غرض اس معاہدے کے متعلق میرے واہمہ میں نہیں گذری۔ان کا یہ رشتہ کا تعلق حضرت امام علیہ السلام سے ہوتا ہے یہ سعادت اور فخران کی خوش قسمتی اور بیدار بختی کا موجب ہے ان کے ایک بزرگ تھے۔شیخ صدر جہاں ( علیہ الرحمتہ ) ایک دنیا دار نے ان کو نیک سمجھ کر اپنی لڑکی دی تھی۔مگر یہ خدا کے فضل کا نتیجہ ہے اور اس کی نکتہ نوازی ہے کہ آج محمد علی خاں کو سلطان دین نے اپنی لڑکی دی ہے یہ اس بزرگ مورث سے زیادہ خوش قسمت ہیں۔یہ میر اعلم میرا دین اور ایمان بتاتا ہے کہ وہ حضرت صدر جہاں سے زیادہ خوش قسمت ہیں۔