اصحاب احمد (جلد 2) — Page 215
215 کو کئی مبشرات ہوئے جن سے ان کے علو مرتبت وغیرہ کا علم ہوتا ہے چنانچہ حضور حقیقتہ الوحی میں رقم فرماتے ہیں: سینتیسواں نشان یہ ہے کہ بعد اس کے خدا تعالیٰ نے حمل کے ایام میں ایک لڑکی کی بشارت دی اور اس کی نسبت فرما یا تُنشّاء فِي الْحِليةِ یعنی زیور میں نشو ونما پائے گی یعنی نہ خود سالی میں فوت ہوگی اور نہ تنگی دیکھے گی۔چنانچہ بعد اس کے لڑکی پیدا ہوئی جس کا نام مبارکہ بیگم رکھا گیا۔۱۶۲ اس طرح حضور تحریر فرماتے ہیں کہ : میں نے خواب میں دیکھا کہ مبارکہ پنجابی زبان میں بول رہی ہے کہ منیوں کوئی نہیں کہہ سکدا کہ ایسی آئی جس نے ایہہ مصیبت پائی۔" حضورا اپنی مبشر اولاد کے تعلق میں فرماتے ہیں: یہ پانچوں جو کہ نسل سیّدہ ہیں ۱۶۳ یہی ہے پنج تن جس پر بنا ہے چونکہ ان سے اور ان کی اولاد سے حضرت نوابصاحب اور آپ کی اولاد کو تعلق قرابت پیدا ہوا اسلئے ان جب تیرا نور آیا۔جاتا رہا اندھریا تو نے یہ دن دکھایا محمود صد شکر ہے خدایا صد ہو پڑھ شکر کے آیا ہے خدایا کے بارے میں حضور نے جو دعا فرمائی ہے اس کا نقل کر دینا غیر موزوں نہ ہو گا آپ فرماتے ہیں: کیوں کر ہوشکر تیرا تیرا ہے جو ہے میرا تو نے ہر اک کرم سے گھر بھر دیا ہے میرا یہ روز کر مبارک سبحان من یرانی دل دیکھ کر یہ احسان تیری ثنائیں گایا یہ روز کر مبارک سبحان من یرانی شکر تیر ا کیونکر اے میرے بندہ پرور تونے مجھے دئے ہیں یہ تیرے تین چاکر تیر ا ہوں میں سراسر تو میرا رب اکبر یہ روز کر مبارک سبحان من یرانی ہے آج ختم قرآں نکلے ہیں دل کے ارماں تو نے دکھایا یہ دن میں تیرے منہ کے قرباں اے میرے رب محسن کیونکر ہو شکر احساں یہ روز کر مبارک سبحان من یرانی تیرا یہ سب کرم ہے تو رحمت اتم ہے کیونکر ہوحمد تیری کب طاقت قلم ہے تیر اہوں میں ہمیشہ جب تک کہ دم میں دم ہے یہ روز کر مبارک سبحان من یرانی اے قادر و توانا! آفات سے بچانا ہم تیرے در پہ آئے ہم نے ہے تجھ کو مانا غیروں سے دل غنی ہے جب سے کہ تجھ کو جانا یہ روز کر مبارک سبحان من یرانی احقر کو میرے پیارے اک دم نہ دور کرنا بہتر ہے زندگی سے تیرے حضور مرنا