اصحاب احمد (جلد 2) — Page 201
201 ظاہر ہوتا۔نواب صاحب اور آپ کے اہل بیت کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنا عزیز سمجھتے تھے۔اور اپنے قرب میں دار میں ٹھہرایا ہوا تھا اور ذرا ذراسی بات کا خیال رکھتے تھے۔اس لئے ہر ایسے امر کے پیدا ہونے پر توجہ دلاتے تاکہ تربیت و اصلاح میں کسی قسم کا نقص پیدا نہ ہو اور وہ بھی اس شفقت بھرے طریق کو اپنے لئے اطیب واعلی یقین رکھتے تھے۔سیدہ نواب مبار کہ بیگم صاحبہ فرماتی ہیں کہ کوئی غلط فہمی یا شکائیت پیدا ہو جاتی تو فوراً حضور اس کو ظاہر فرماتے۔دریافت فرماتے اور پھر حقیقت کا علم ہونے پر نہایت محبت سے عذر کو قبول فرما کر پھر زیادہ دلداری شروع کرتے کہ سر، اس ابر کرم کے بار احسان سے اور بھی جھک جاتا۔میاں عبدالرحیم خاں صاحب کی علالت کے دنوں میں حضرت نے بے حد فکر اور توجہ مبذول رکھی۔ہر وقت خود آتے اور دیکھتے اور بھی ہر موقعہ پر خبر گیری اور ویسے بھی ہر تکلیف کو پوچھتے رہنا، نواب صاحب بیان کرتے تھے کہ سیر کو جاتے ہوئے مسجد مبارک کے قریب ٹھہر کر حضور میرے آنے کا انتظار فرماتے اور میرے آنے پر روانہ ہوتے اور مجھے ذرا دیر لگ جاتی تو مجھے بے حد شرم آتی ہے نواب صاحب جس ذات والا صفات کی خاطر سب کچھ چھوڑ کر اس کے در پر دھونی رمائے بیٹھے تھے بھلا اس کی ناراضگی کی حالت کب برداشت کر سکتے تھے۔آپ نے بمشورہ حضرت مولوی نورالدین صاحب ذیل کا عریضہ معذرت خواہی کے لئے حضرت کی خدمت اقدس میں بھیجا۔* سیدی مولائی مگر می معظمی طبیب روحانی سلمہ اللہ تعالی۔السلام علیکم۔جو رنج اور قلق اس واقعہ سے جو ہماری بدقسمتی اور بے سمجھی سے پیش آیا ہے یعنی میرے گھر سے حضور کی علالت کے موقعہ پر حاضر نہیں ہوئے اب اس کے وجو ہات کچھ بھی ہوں ہم کو اپنے قصور کا اعتراف ہے۔ہم اپنی روحانی بیماریوں کے علاج کے لئے حاضر ہوئے ہیں ،اب تک جو معافی قصور کے لئے درخواست کرنے میں دیر ہوئی وہ میرے گھر کے لوگوں کو بہ سبب ایسے واقعات کے کبھی پیش نہ آنے کی وجہ سے اور زیادہ حجاب واقع ہو گیا اور ان کو شرم ہر ایک سے آنے لگی۔میں اب تک خاموش رہا کہ جب تک اس جھوٹی شرم سے خود ہی باز نہ آئیں گے جب تک میں خاموش رہوں تا کہ دل سے ان کو یہ اثر محسوس ہو اور خود دل سے نواب صاحب فرماتے ہیں پہلے جب سیر کو تشریف لیجاتے تو میرا انتظار فرماتے بعض وقت بہت دیر بھی ہو جاتی تھی جب سے مبارکہ بیگم صاحبہ کا نکاح مجھ سے ہوا تو آپ نے پھر میرا انتظار نہیں کیا یا تو حیا فرماتے اور اس کی وجہ سے ایسا نہیں کیا یا مجھے فر زندگی میں لینے کے بعد فرزند سمجھ کر انتظار نہیں کیا) * اس مشورہ کا ذکر مکرم میاں محمد عبد الرحمن خاں صاحب کرتے ہیں۔۱۴۲