اصحاب احمد (جلد 2) — Page 187
187 ترک کر دیا تھا۔اتفاق ایسا ہوا کہ جب کبھی کسی چلہ یا علالت کے موقعہ پر ایسی کوئی چیز گھر میں آئی با وجود نہایت درجہ پوشیدہ رکھنے کے حضرت نواب صاحب کو علم ہو گیا۔لطیفہ بیان فرماتے تھے کہ ایک کپڑے کی باریک سیون میں ایک بار خالہ نے تعویذ سی دیا اس پر بھی میرا ہاتھ پڑا اور فوراً اس سیون کے کرارا پن سے شبہ پیدا ہوا۔اسی وقت اُدھیڑ ڈالا اور دیکھا تو تعویذ۔اس پر ان کو ایک اعتقاد سا ہو گیا تھا کہ نواب صاحب کو ایسی چیز کا پتہ لگ جاتا ہے کچھ ہر وقت کی صحبت اور نصیحت کا اثر پڑا۔اور آخر میں انہوں نے اپنے آپ کو بالکل نواب صاحب کے مزاج کے مطابق بنا لیا تھا۔(ن) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جو ہمیشہ اپنے عزیزوں کی طرح نواب صاحب کی تربیت میں مشغول رہتے تھے۔اہل بیت سے حسن سلوک کی تلقین کرتے ہوئے ۱۸/ نومبر ۱۸۹۸ء کے مکتوب میں رقم فرماتے ہیں: آپ نے اپنے گھر کے لوگوں کی نسبت جو لکھا تھا کہ بعض امور میں رنج پیدا ہوتا ہے سو میں آپ کو اطلاع دیتا ہوں کہ میرا یہ مذہب نہیں ہے میں اس حدیث پر عمل کرنا علامت سعادت سمجھتا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اور وہ یہ ہے خَيْرُ كُمُ خَيْرُ كُمُ لِأَهْلِهِ یعنی تم میں سے اچھا آدمی وہ ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ اچھا ہو عورتوں کی طبیعت میں خدا تعالیٰ نے اس قدر بھی رکھی ہے کہ کچھ تجب نہیں کہ بعض وقت خدا اور سول یا اپنے خاوند یا خاوند کے باپ یا مرشد یا ماں یا بہن کو بھی برا کہہ بیٹھیں اور ان کے نیک ارادہ کی مخالفت کریں۔سوایسی حالت میں بھی کبھی ، مناسب رعب کے ساتھ اور کبھی نرمی سے ان کو سمجھا دیں اور ان کی تعلیم میں بہت مشغول رہیں لیکن ان کے ساتھ ہمیشہ نیک سلوک کریں۔اور مروت اور جواں مردی سے پیش آویں اور ان کو سمجھاتے رہیں کہ مسلمان کے لئے آخرت کا فکر ضروری ہے تا خدا تعالیٰ مصیبتوں سے بچاوے وہ ہیبت ناک چیز جو خاوند اور بیوی اور بچوں اور دوستوں میں جدائی ڈالتی ہے جس کا دوسرے لفظوں میں نام موت ہے دعا کرنا چاہئے کہ وہ بے وقت نہ آوے اور تباہی نہ ڈالے اور دل نرم رکھنا چاہئے اور ان کو سمجھا دیں کہ نماز کی پابندی کریں نماز جناب الہی میں عرض معروض کا موقع دیتی ہے اپنی زبان میں دنیا اور آخرت کے لئے دعائیں کریں بد تقدیروں سے ڈرتے رہیں خدا تعالے ان پر رحم کرتا ہے جو امن کے وقت ڈرتے ہیں اور نیز آپ ان کے واسطے نماز میں دعائیں کریں یہ نازیبابات ہے کہ ادنیٰ لغزش دیکھ کر دل میں قطع تعلق کریں۔بلکہ وفاداری سے اصلاح