اصحاب احمد (جلد 2) — Page 186
186 مدرسہ کا نیا انتظام اور نواب صاحب کی توجہ چونکہ حضرت نواب صاحب کو قادیان سے باہر کچھ عرصہ کے لئے مجبورا رہنا پڑا تھا۔اس لئے آپ مدرسہ کے انتظام سے سبکدوش ہو گئے تھے۔معلوم ہوتا ہے کہ اسی لئے آپ کو مجلس منتظمہ میں شامل نہیں کیا گیا تھا لیکن بعد ازاں پھر آپ جیسے آزمودہ کار کی خدمات سے فائدہ اٹھانا ضروری معلوم ہوا۔چنانچہ بدر بابت ۰۶-۶-۱۴ سے معلوم ہوتا ہے کہ اسوقت مدرسہ کی انتظامیہ کمیٹی میں اصحاب مذکورہ بالا کے علاوہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب اور حضرت مولوی شیر علی صاحب و حضرت نواب صاحب بھی شامل کئے جاچکے تھے۔البتہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب اسوقت وفات پاچکے تھے۔آپ مدرسہ کے کام میں پوری دلچسپی لیتے تھے۔چنانچہ رسالہ تعلیم الاسلام (سرورق ج) بابت ستمبر ۱۹۰۶ ء میں مرقوم ہے : ایک قابل تقلید نمونہ۔گذشتہ دسمبر کے جلسہ پر جبکہ اس امر میں تقریریں ہو رہی تھیں کہ سب احمدی احباب جو اپنے بچوں کو پڑھانا چاہتے ہوں وہ اپنے بچوں کو مدرسہ تعلیم الاسلام میں تعلیم دیں تا کہ علاوہ بچوں کے دینی فائدہ کے مدرسہ کو مالی امداد پہنچے تو اس وقت نواب محمد علی خاں صاحب نے ایک یہ تجویز پیش کی تھی کہ جو احباب کسی عذر سے مدرسہ میں اپنے بچوں کو نہ بھیج سکتے ہوں وہ اس قدر نقد روپیہ مدرسہ تعلیم الاسلام میں دے دیا کریں۔جو کہ ان کے اپنے بچوں کی فیس میں دینا لازم ہوسکتا ہو۔اور وعدہ فرمایا تھا کہ میں اپنے تینوں بچوں کی فیس مدرسہ میں داخل کر دیا کروں گا۔چنانچہ اس دن سے حضرت نواب صاحب ممدوح مبلغ و روپیہ ماہوار بطور فیس مدرسہ ہذا میں داخل فرماتے ہیں۔اس قابل تقلید تجویز کو اگر چہ سب حاضرین جلسہ نے منظور فرمایا تھا اور اس کی بڑی تحسین کی تھی لیکن افسوس کہ سوائے نواب صاحب مدوح کے کوئی مہربان اس کو عمل میں نہیں لایا۔حالانکہ بہت سے ایسے احباب ہیں جو کہ اس تجویز کے ماتحت ہیں“۔نواب صاحب کی اہلیہ کی وفات جیسا کہ مذکور ہوا نواب صاحب کی شادی اپنی خالہ زاد محتر مہ مہر النساء بیگم صاحبہ سے ہوئی تھی۔وہ بہت شریف اور منتظم خاتون تھیں لیکن اعزہ کا اثر ان پر بہت تھا۔آٹھ سال ان کی تربیت میں ہی گزرے اور آخر یہ ہوا کہ انہوں نے چوری چھپے کی رسوم اور تعویذ گنڈا جو ان کی والدہ نواب صاحب کی خالہ کبھی دے جاتی تھیں