اصحاب احمد (جلد 2) — Page 177
177 اس خط کے بھیجنے کے تھوڑے عرصہ بعد حضرت اقدس سیر کے لئے تشریف لائے یہ کوئی ساڑھے آٹھ بجے تھے۔حضرت اقدس نے میرے خط ہی کی تمہید پر تمام سیر میں نہایت عجیب گفتگو فرمائی اس میں سے میرے خط کے متعلق خلاصہ تو یہ تھا کہ ہمارا اصل مقصد دینی تعلیم ہے مگر اس کو بسہولت مدرسہ میں داخل کرنا چاہئے تا کہ بچے گھر نہ جائیں۔اور ہمارا مقصد صرف جاہل مولوی بنانا بھی نہیں کہ باجود کتابوں کے پڑھنے کے عقل سے کام نہیں لیتے ثبوت کے بعد ہماری مخالفت پر اڑے ہوئے ہیں اور ہم کو اس سے بڑا افسوس رنج ہوتا ہے جب ہم اپنی جماعت میں اختلاف سنتے ہیں ہم تو یہ دعائیں کرتے ہیں کہ تم میں اتفاق ہواور وہ گندی باتیں تم میں نہ ہوں جو دوسرے دنیا داروں میں ہیں۔اب تک اپنے مریدوں پر یہ حسن ظن کرتا ہوں ان سب کی نیت بہتر ہے گو اختلاف ہے اور اگر یہ حالت نقار تک پہنچی ہے تو پھر گویا ہم سے تم نے کچھ فائدہ ہی نہیں اٹھایا وغیرہ وغیرہ۔الحمد کی تفسیر اس دوران گفتگو میں عجیب ہی کی۔فرمایا کہ مخالف ہی معارف کے ظاہر کرنے کا باعث ہوتے ہیں ابوبکر نے کیا معارف ظاہر کرانے تھے جو بلا دلیل دریافت مان بیٹھے تھے فرمایا کہ اگر مخالفت نہ ہوتی تو قرآن شریف کے یہ تمیں پارے نہ ہوتے ہماری کتابیں بھی مخالفین ہی نے لکھوائی ہیں الحمد بھی آئندہ کے مخالفین نے لکھوائی ہے فرمایا عیسائی الرحمن اور الرحیم کے منکر ہیں اور غیر المغضوب عليهم ولا الضالين میں پیشگوئی ہے مغضوب علیہم سے مراد مخالف یہودی اور الضالین سے مراد عیسائی ہیں تو اشارہ کہ چونکہ مسلمانوں نے یہودیوں ( کی ) مماثلت کرنی ہے اس لئے ان کے لئے ان ہی میں سے مسیح آنا چاہئے تھا اور عیسائیت کا بھی عروج۔واپسی پر مدرسہ کے لئے چندہ فراہم کرنے کی تقریر کی بلکہ یہاں تک کہ جو ایسے چندے (سے) پہلو تہی کرتے ہیں وہ گویا ہمارے مرید نہیں، ہم پھر مدرسہ دیکھنے گئے جونیئر ہائی اور مڈل کلاس دیکھی جونیئر ہائی کو ہیڈ ماسٹر پڑھارہے تھے۔مضمون انگریزی تھا جماعت میں ترجمہ میں کمزوری اور مطالعہ کی کمی دیکھی۔طرز تعلیم استاد اچھا تھا طالب علم ذ کی کم تھے۔مڈل کلاس میں حساب میں حساب مفتی محمد صادق پڑھارہے تھے چونکہ جزر کا قاعدہ سمجھا رہے تھے اس لئے پوری حالت معلوم نہیں ہوسکی قاعدہ نشست ٹھیک نہ تھا۔بعد نماز ظہر اور عصر۔۔۔۔مدرسہ کے متعلق مولوی عبد الکریم اور مولوی نورالدین صاحب سے گفتگو ہوئی۔اس کا ذکر الحکم پر چہ ۰۱-۱۱-۲۴ میں آتا ہے اور گذشتہ اوراق میں نقل کر چکا ہوں۔(مؤلف)