اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 173 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 173

173 کالج کے لئے حضرت اقدس کی دعا کالج کی امداد و اعانت کی تحریک کرتے ہوئے معزز الحکم رقم طراز ہے۔قوم کی خدمت میں التماس افتتاح کالج کی روئداد ناظرین الحکم کے سامنے پیش کرنے کے بعد ہم اپنی قوم کی خدمت میں التماس کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ اس وقت تک تعلیم الاسلام ہائی سکول نے جس قدر ترقی کی ہے اس کا جہاں تک اسباب سے تعلق ہے وہ قوم کی سرپرستی اور عنایت سے ہوئی ہے اگر چہ ان ساری ترقیوں کی جڑ حضرت اقدس کی دعائیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کے فیض اور فضل کو جذب کرتی رہی ہیں اور آئندہ جو کچھ ترقی ہوگی وہ بھی محض خدا ہی کے فضل سے اور حضرت مسیح موعود کی دُعاؤں کی برکت سے۔لیکن ہماری قوم کا فرض ہے کہ بلحاظ اسباب کالج کی ہر قسم کی اعانت کے لیے فیاضی سے کام لیں۔حضرت حجتہ اللہ کالج کی بہتری اور ترقی کے لئے تو یہاں تک خواہشمند ہیں کہ آپ نے لنگر خانے کے چندہ سے وضع کر کے مدرسہ کو چندہ دینے کی بھی تاکید کر دی تھی جن سے بڑھ کر اور کوئی طریق اس ہمدردی اور دلچسپی کے اظہار کا نہیں ہو سکتا تھا جو آپ کو مدرسہ کے ساتھ ہے۔گویا لنگر خانہ کے پہلو بہ پہلو حضور مدرسہ کی ضروریات کو محسوس کرتے ہیں تو قوم خود سمجھ سکتی ہے کہ اس کو کس درجہ تک سمجھنا چاہئے اب ہم اس روئداد کو اس بات پر ختم کر دیتے ہیں کہ کالج کے پروفیسروں میں حضرت حکیم الامت دبیات کے پروفیسر۔حضرت مولانا مولوی عبد الکریم صاحب ادب عربی کے پروفیسر اور حضرت مولوی محمد علی صاحب ایم اے ریاضی کے پروفیسر ہیں جو آنریری طور پر محض خدا کے لئے کام کرتے ہیں جس کی جزاء اللہ تعالی ہی ان کو دیگا۔اس سے ثابت ہو سکتا ہے کہ اعلیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی توجہ کے ساتھ بقیہ حاشیہ:- نجسته منزل و فرخ نثراد و خوش محضر جناب خان معظم امیر دالا شاں باهتمام و نظامش بعزم دل پر داخت فزود رونق و رنگ و بهار این بستاں چو فکر از پئے سال کشادش کر دم بگفت باتف نیم بگوش دل غفراں نوٹ : جملہ کا رروائی افتتاح مع تقارير البدر بابت ۰۳-۵-۶ اور ۰۳-۶-۱۹ اور ۰۳-۶-۲۶ میں درج ہے مکرم ایڈیٹر صاحب الحکم اس موقع پر قادیان سے باہر تھے بعد میں انہوں نے بھی اس کا رروائی کو الحکم پر چہ ۲۶-۶-۰۳ میں شائع کر دیا