اصحاب احمد (جلد 2) — Page 170
170 خوشی ہوتی ہے۔مگر جو لوگ غموں میں مبتلا ہوں ان کو حقیقی خوشی نہیں ہوا کرتی۔میں تم کو ایک بچہ کا قصہ سناتا ہوں کیونکہ تم بھی بچے ہو مگر وہ عمر میں تم سب سے چھوٹا تھا اس کا نام یوسف ہے جس وقت بھائیوں نے اسے باپ سے مانگا اور چاہا کہ اسے باپ سے الگ کر دیں اور جنگل میں جا کر ایک کنوئیں میں اتار دیا اب تم سمجھ سکتے ہو کہ اس کی کیا عمر تھی۔اگر چہ وہ چھوٹا تھا اور نا واقف تھا مگر پھر بھی بچوں کی طرح باپ سے الگ ہونے اور نکالے جانے کا اسے علم تھا اور یہ جانتا تھا کہ اس سے دکھ ملتا ہے ذرا سوچو تو جب ایک بچہ کو اس کی ماں سے الگ کیا جاتا ہے تو بچہ کا کیا حال ہوتا ہے پھر بچہ ہونے کے نام سے دب جاتے ہیں سہم جاتے ہیں اور اس کو وہ تاریک کنواں دکھایا گیا جس میں اسے اتارا گیا۔نہ اس وقت کوئی یار اور نہ آشنا نہ ماں اور نہ باپ۔اگر ہوتے بھی تو اسے وہ بات نہ بتلا سکتے جو خدا نے بتائی اور ان کو کیا علم تھا کہ اس کا انجام کیا ہوگا۔مگر خدا کا سایہ اس پر تھا اور خدا نے اسے بتایا تُنَبِنَّهُمْ بِاَمْرِهِمْ هَذَا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ کہ اے یوسف دیکھ تجھے باپ سے الگ کیا تیری زمین سے تجھے الگ کیا اور اندھیرے کنوئیں میں ڈالا مگر میں تیرے ساتھ ہوں گا اور اس علیحدگی کی تعبیر کو تو بھائیوں کے سامنے بیان کرے گا اور ان کو اس بات کا شعور نہیں ہے۔دیکھو یہ باتیں باپ نہیں کر سکتا نہ وعدہ دے سکتا ہے کہ یوں ہوگا یا جاہ وجلال کے وقت تک یہ تندرستی بھی ہوگی ایک باپ بچے سے پیار تو کر سکتا ہے مگر وہ اس کی آئندہ حالت کا کیا اندازہ لگا سکتا ہے ان باتوں کو جمع کر کے دیکھو اگر کوئی انسان تسلی دیتا تو بچہ کو پیار کرتا گلے میں ہار ڈالتا اور اسے کہتا کہ ہم نیچی دیویں گے مگر خدا کی ذات کیا رحیم ہے وہ فرما تا لتُبنهُمُ بِأَمْرِهِمُ هَذَا۔ہم وہ عروج دیویں گے کہ تو ان احمقوں کو اطلاع دیوے گا۔یہ حقیقت ہے اس سایہ کی جسے میں چاہتا ہوں تم پر ہو۔علوم کی تحصیل آسان ہے۔مگر خدا کے فضل کے نیچے تحصیل کرنا یہ مشکل ہے کالج کی اصل غرض یہی ہے کہ دینی اور دنیوی تربیت ہو۔مگر اول فضل کا سایہ ہو پھر کتاب پھر دستورالعمل ہو، اس کے بعد دیکھو کہ کیا کامیابی ہوتی ہے۔فضل الہی کے لئے پہلی بشارت پیارے عبدالکریم نے دی ہے وہ کیا ہے؟ حضرت صاحب کی دعائیں ہیں۔میں ان دعاؤں کو کیا سمجھتا ہوں یہ بہت بڑی بات ہے اور یقیناً تمہارے ادراک سے بالا تر ہوگی مگر میں کچھ بتلاتا ہوں۔مخالفتوں سے انسان نا کامیاب ہوتا ہے گھبراتا ہے۔ایک لڑکا ماسٹر کی مخالفت کرے تو اسے مدرسہ چھوڑنا پڑتا ہے۔جس قدر مہتم مدرسہ کے ہیں اگر وہ سب مخالفت میں آویں تو زندگی بسر کرنی مشکل ہوا گر چہ افسر بھی لڑکوں کے محتاج ہیں مگر ایک ذرا سے نکتہ سے اسے بورڈنگ میں رہنا مشکل ہو جاتا ہے۔اب اس پر اندازہ کرو کہ ایک کی مخالفت انسان کو کیسے مشکلات میں ڈالتی ہے۔لیکن ہمارے امام کی ساری برادری مخالف ہے رات دن یہی تاک ہے کہ اسے دکھ پہونچے پھر گاؤں والے مخالف حالانکہ ان کو نفع پہنچتا ہے۔میں نے۔