اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 160 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 160

160 انسپکٹر مدارس کی رپورٹ اسی طرح انسپکٹر مدارس نے ۱۱ فروری ۱۹۰۴ء کو مدرسہ تعلیم الاسلام کا معائنہ کر کے رپورٹ میں تحریر کیا کہ سکول کی بنیاد حضرت صاحب نے ۹۸ء میں پرائمری کی شکل میں رکھی۔99ء میں مڈل سکول بن گیا۔۱۹۰۰ ء میں ہائی سکول اور ۱۹۰۳ء میں کالج کی پہلی جماعت کھولی گئی جس میں تین لڑکے ہیں اکا ؤن لڑکے سکنڈری میں اور ا کا نوے پرائمری میں ہیں۔کل خرج مدرسہ سال گذشتہ کے لئے ۳۹۸۶ روپے تھا۔حالانکہ چندہ موعودہ کی تعداد اس سے کہیں زیادہ تھی اور آئندہ ہر طرح سے امید ہے کہ وہ با قاعدہ آتا رہے گا۔کیونکہ اس کے حامی اور مینیجر باثروت و قابل وثوق آدمی ہیں جن میں کہ ایک نواب محمد علی خاں صاحب رئیس مالیر کوٹلہ بھی ہیں۔کل فیس سال گذشتہ کی ۵۲۶ روپے تھی۔مگر معاف طلباء کی تعداد بہت ہی زیادہ ہے قریباً ۴۵ فی صدی معاف ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اکثر طلباء کو مفت تعلیم دینے کی طرف زیادہ رغبت پائی جاتی ہے۔“ ۱۲۴ بقیہ حاشیہ:- اس جگہ مجھے تین بزرگوں کا شکریہ کے ساتھ ذکر کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ایک تو حضرت استاذی المعظم مولانا مولوی نور الدین صاحب جو کئی طلباء کو وقتاً فوقتا ما ہوائی اور ایک مشت مدد دیا کرتے ہیں۔دوم مخدومی نواب محمد علی خان صاحب جو اپنی جیب خاص سے مدرسہ کے چار طلباء کو ماہواری معقول وظیفہ دیتے ہیں اور تیسرے مکرم و مخدوم نواب فتح نواز جنگ مولوی مهدی حسن صاحب بیرسٹرایٹ لالکھنو جنہوں نے کالج کے واسطے ایک مستقل وظیفہ مبلغ پچاس روپیہ ماہوار مقرر کر دیا ہے۔فجزاهُمُ اللهُ اَحْسَنِ الْجَزَاء فِى الدّنْيَا وَالْعُقْبى۔۱۲۵ 66 نوٹ : مکرم عرفانی صاحب فرماتے ہیں کہ نواب فتح نواز جنگ مولوی مہدی حسن صاحب نے بیعت کر لی تھی۔یہ نواب سر وقار الامراء امیر پائیگاہ اور مدار المهام حیدر آباد دکن کے خاص معتمد تھے۔اور قادیان حضرت اقدس) کے عصر سعادت میں حاضر ہوئے تھے۔اور اس طرح پر صحابی تھے۔ان کے آنے پر حضرت نے تقریر فرمائی تھی۔ان کی وفات کا علم البدر پر چہ ۰۴-۲- اص ۱۰ کالم ۳ سے ہوتا ہے۔اسی طرح الحکم بابت ۲۴-۱-۰۴ ( صفحہ ۱۱،۱۰) سے ان کی وفات اور قبول احمدیت کا علم ہوتا ہے۔