اصحاب احمد (جلد 2) — Page 159
159 کرتے تھے اور وظائف جاری کر رکھے تھے۔بقیہ حاشیہ: کل روپیہ خاں صاحب نواب محمد علی خاں صاحب ڈائرکٹر مدرسہ کے نام آنا چاہئے اور کو پن منی آڈر پر عید فنڈ لکھا جاوے اگر صدقہ فطر بھی بھیجا جاوے تو اس کی تفصیل الگ ہو۔اسی پر چہ میں ایسی تحریک نواب صاحب کی طرف سے بھی شائع ہوئی ہے۔۱۲۳ اسی طرح مکرم مفتی محمد صادق صاحب سپر نٹنڈنٹ کالج و ہیڈ ماسٹر تعلیم الاسلام ہائی اسکول نے غریب طلباء کے لئے چندہ جمع کرنے کی تحریک کرتے ہوئے تحریر فرمایا: غرض یہ نہایت ضروری امر ہے کہ غریب طلباء کو وظائف کے ساتھ مدد دے کر ان کو اس مدرسہ کی تعلیم اور حضرت اقدس مسیح علیہ السلام اور آپ کے پاک حاشیہ نشینان کی مقدس صحبت سے موقعہ دیا جاوے تا کہ آئندہ نسلوں کے واسطے ایک ہرا بھرا باغ طیار ہو جاوے۔مگر یہ کام روپے سے ہوتا ہے اور یہاں بہ مشکل اتنا چندہ جمع ہوتا ہے کہ استادوں کی تنخواہیں ، معمولی سامان اور عمارت کے لئے کافی ہو، یا کافی سے بھی کچھ کم ہو تو نواب محمد علی خاں صاحب اپنے خزانہ میں سے اس میں کچھ ڈالتے رہا کریں۔جب سے مکرمی مخدومی نواب صاحب یہاں تشریف لائے ہیں میں دیکھتا ہوں کہ وہ اکثر کتب سامان عمارت، عملہ میں اس قدر مدد دے رہے ہیں کہ اگر اس مدرسہ کے بانی حضرت امام علیہ الصلوۃ والسلام اور اس کا مقصد خدمت دین نہ ہوتا تو کہا جاسکتا تھا کہ ان کی مدد کے بغیر مدرسہ شاید بڑی رڈی حالت میں ہوتا چہ جائے کہ کالج تک ترقی کر کے اس قابل بن جائے کہ علامہ دہر واجب التعظیم برخور دو کلاں ماہر علوم دینیہ و دنیو یہ حضرت مولوی حکیم نور الدین صاحب اور مسلمانوں کے لیڈر حضرت مولوی عبد الکریم صاحب۔۔۔۔۔ایسے ایسے بزرگ اس کالج کے طلباء کی تعلیم صاحب اپنے ذمہ لیں۔معلوم ہوتا ہے کہ نواب صاحب نے علاوہ مالی امداد اور ظاہری تدبر و تفکر کے اندر ہی اندر اپنی کوٹھڑی کے دروازے بند کر کے اللہ تعالی کے آگے دستِ دعا کچھ ایسے انداز سے پھیلائے ہیں کہ ہاتھ خالی نہیں پھر اور نہ بغیر فضل الہی یہ ترقی محال ہے۔