اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 116 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 116

116 اس کے جواب میں نواب صاحب تحریر فرماتے ہیں: بسم اللہ الرحمن الرحیم دار الامان قادیان ۲۷ ستمبر ۱۹۰۲ء بھائی صاحب مکرم معظم سلمکم اللہ تعالیٰ۔السلام علیکم۔والا نامہ پہنچا۔جواباً عرض ہے جناب نے شفقت بزرگانہ سے جو کچھ تحریر فرمایا جناب کی شفقت اس کی مقتضی تھی۔مگر جناب کو غالبا ان امور کی اطلاع نہیں جن امور کے لئے میں نے قادیان میں سکونت اختیار کی ہے۔میں نہایت صفائی سے ظاہر کرتا ہوں کہ مجھ کو حضرت اقدس مسیح موعود مهدی مسعود کی بیعت کئے ہوئے بارہ سال ہو گئے اور میں اپنی شومی طالع سے گیارہ سال سے گھر ہی میں رہتا تھا اور قادیان سے مہجور تھا۔صرف چند دنوں گاہ گاہ یہاں آتا رہا اور دنیا کے دھندوں میں پھنس کر بہت سی اپنی عمر ضائع کی۔آخر جب سوچا تو معلوم کیا کہ عمرتو ہوا کی طرح اڑ گئی اور ہم نے نہ کچھ دین کا بنایا اور نہ دنیا کا اور آخر مجھ کو شعر یاد آیا کہ ہم خدا خواہی و ہم دنیائے دوں این خیال است و محال است و جنوں یہاں میں چھ ماہ کے ارادہ سے آیا تھا مگر یہاں آکر میں نے اپنے تمام معاملات پر غور کیا تو آخر یہی دل نے فتوی دیا کہ دنیا کے کام دین کے پیچھے لگ کر تو بن جاتے ہیں۔مگر جب دنیا کے پیچھے انسان لگتا ہے تو دنیا بھی ہاتھ نہیں آتی اور دین بھی برباد ہو جاتا ہے اور میں نے خوب غور کیا تو میں نے دیکھا کہ گیارہ سال میں نہ میں نے کچھ بنایا اور نہ میرے بھائی صاحبان نے کچھ بنایا اور دن بدن ہم با وجود اس مایوسانہ حالت کے دین بھی برباد کر رہے ہیں۔آخر یہ سمجھ کر کہ کار دنیا کسے تمام نہ کرد۔کوٹلہ کو الوداع کہا۔اور میں نے مصمم ارادہ کر لیا کہ میں ہجرت کرلوں۔سوالحمد للہ میں بڑی خوشی سے اس بات کو ظاہر کرتا ہوں کہ میں نے کوٹلہ سے ہجرت کر لی ہے اور شرعا مہاجر پھر اپنے وطن میں واپس اپنے ارادہ سے نہیں آسکتا۔یعنی اس کو گھر نہیں بنا سکتا ویسے مسافرانہ وہ آئے تو آئے۔پس اس حالت میں میرا آنا محال ہے۔میں بڑی خوشی اور عمدہ حالت میں ہوں۔ہم جس شمع کے پروانے ہیں اس سے الگ کس طرح ہو سکتے ہیں؟ کہاں کوٹلہ تنہا رہنا یا اگر کوئی ملا تو وہ ہم مذاق نہیں۔بری صحبت۔خلاف شریعت امور میں مبتلا۔آخر ایسے لوگوں کی صحبت سے جو زنگ ایک شخص کے دل پر بیٹھ سکتا ہے اس کو وہی سمجھ سکتے ہیں جن کو اس کا تجربہ ہے۔ہمنشین تو از تو باید تا ترا عقل و دین بفزائد تا