اصحاب احمد (جلد 2) — Page 70
70 جن کے استعمال کی نسبت ہرگز امید نہ تھی لیکن چونکہ دلوں پر اللہ جل شانہ کا تصرف ہے اس لئے سوچا کہ کسی وقت اگر اللہ جل شانہ نے چاہا تو آپ کے لئے دعا کی ہے۔نہایت مشکل یہ ہے کہ آپ کو اتفاق ملاقات کا کم ہوتا ہے اور دوست اکثر آمد ورفت رکھتے ہیں۔کتنے مہینوں سے ایک جماعت میرے پاس رہتی ہے جو کبھی پچاس کبھی ساٹھ اور کبھی سو سے بھی زیادہ ہوتے ہیں اور معارف سے اطلاع پاتے رہتے ہیں اور آپ کا خط کبھی خواب خیال کی طرح آجاتا ہے اور اکثر نہیں۔اب آپ کے سوال کی طرف توجہ کر کے لکھتا ہوں کہ جس طرح آپ سمجھتے ہیں ایسا نہیں بلکہ در حقیقت یہ فتح عظیم ہے مجھے خدا تعالیٰ نے بتلایا ہے کہ عبد اللہ آتھم نے حق کی عظمت قبول کر لی اور سچائی کی طرف رجوع کرنے کی وجہ سے سزائے موت سے بچ گیا ہے۔اور اس کی آزمائش یہ ہے کہ اب اس سے ان الفاظ میں اقرار لیا جائے تا اس کی اندرونی حالت ظاہر ہو یا اس پر عذاب نازل ہووے۔میں نے اس غرض سے اشتہار دیا ہے کہ آتھم کو یہ پیغام پہنچایا جاوے کہ اللہ جل شانہ کی طرف سے یہ خبر ملی ہے کہ تو نے حق کی طرف رجوع کیا ہے اور اگر وہ اس کا قائل ہو جائے تو ہمارا مدعا حاصل ورنہ ایک ہزار روپیہ نقد بلا توقف اس کو دیا جائے کہ وہ قسم کھا جاوے کہ میں نے حق کی طرف رجوع نہیں کیا اور اگر وہ اس قسم کے بعد ایک برس کے بعد ( تک عرفانی ) ہلاک نہ ہو تو ہم ہر طرح سے کا ذب ہیں اگر وہ قسم نہ کھاوے تو کا ذب ہے۔آپ اس کو سمجھ سکتے ہیں کہ اگر تجربہ سے اس نے مجھ کو کا ذب یقین کر لیا ہے۔اور وہ اپنے مذہب پر قائم ہے تو قسم کھانے میں اس کا کچھ بھی حرج نہیں لیکن اگر اس نے قسم نہ کھائی اور باوجود یکہ دوکلمہ کے لئے ہزار روپیہ اس کے حوالے کیا جاتا ہے اگر وہ گریز کر گیا تو آپ کیا سمجھیں گے؟ اب وقت نزدیک ہے اشتہار آئے چاہتے ہیں میں ہزار روپے کے لئے متر د تھا کہ کس سے مانگوں ایسا دیندار کون ہے جو بلا توقف بھیج دے گا ؟ آخر میں نے ایک شخص کی طرف لکھا ہے اگر اس نے دید یا تو بہتر ہے۔ورنہ یہ دنیا کی نابکار جائداد بیچ کر خود اس کے آگے جا کر رکھوں گا تا کامل فیصلہ ہو جائے اور جھوٹوں کا منہ سیاہ ہو جائے اور خدائے تعالیٰ نے کئی دفعہ میرے پر ظاہر کیا ہے کہ اس جماعت پر ایک ابتلاء آنے والا ہے تا اللہ تعالیٰ دیکھے کہ کون سچا ہے اور کون کچا ہے اور اللہ جل شانہ کی قسم ہے کہ میرے دل میں اپنی جماعت کا انہیں کے فائدہ کے لئے جوش مارتا ہے ورنہ اگر کوئی میرے ساتھ نہ ہو تو مجھے تنہائی میں لذت ہے بے شک فتح ہوگی۔اگر ہزار ابتلاء درمیان ہو تو آخر ہمیں فتح ہو گی ان ابتلاؤں کی نظیر آپ مانگتے ہیں ان کی نظیر میں بہت ہیں۔آپ کو معلوم نہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنے بادشاہ ہونے کا جو وعدہ کیا اور وہ ان کی زندگی میں پورا نہ ہوا تو ستر آدمی مرتد ہو گئے۔حدیبیہ کے قصہ میں تفسیر ابن کثیر میں لکھا ہے کہ کئی بچے آدمی مرتد ہو گئے۔وجہ یہ تھی کہ اس پیش گوئی کی کفار مکہ کوخبر ہوگئی تھی اس لئے انہوں نے شہر کے