اصحاب احمد (جلد 2) — Page 68
68 خلافت ثانیہ میں جماعت سے الگ رہے ) خود میں نے سنا کہتے تھے کہ اب ہم ان چالوں میں نہیں آسکتے۔اس بات کی اطلاع مولوی صاحب نے حضور علیہ السلام کو دیدی۔حضور اُسی وقت باہر تشریف لے آئے اور فصیل والے پلیٹ فارم پر جو موجودہ درزی خانہ سے لیکر ڈاکٹر غلام غوث صاحب کے مکان تک ہوتا تھا ٹہلنے لگے اور فرمایا بقیہ حاشیہ:۔" اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور سچے خدا کو چھوڑ رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے وہ انہی دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک ماہ لیکر یعنی ۱۵ ماه تک ہاو یہ میں گرایا جائیگا اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے اور جو شخص سچ پر ہے اور بچے خدا کو مانتا ہے اس کی عزت ظاہر ہوگی اور اس وقت جب پیشگوئی ظہور میں آئینگی بعض اندھے سو جاکھے کئے جائیں گے بعض لنگڑے چلنے لگیں گے بعض بہرے سنے لگیں گے۔‘ پس اس پیشگوئی میں ہاویہ کے معنے اگر آپ کی تشریح کے بموجب نہ لئے جائیں اور صرف ذلت اور رسوائی کی جائے تو بیشک ہماری جماعت ذلت اور رسوائی کے ہادیہ میں گر گئی اور عیسائی مذہب سچا۔۔۔جو خوشی اس وقت عیسائیوں کو ہے وہ مسلمانوں کو کہاں ؟ پس اگر اس پیشگوئی کوسچا سمجھا جاوے تو عیسائیت ٹھیک ہے۔کیونکہ جھوٹے فریق کو رسوائی اور بچے کو عزت ہوگی اب رسوائی مسلمان کو ہوئی۔۔۔میرے خیال میں اب کوئی تاویل نہیں ہوسکتی دوسرے اگر کوئی تاویل ہوسکتی ہے تو یہ بڑی مشکل بات ہے کہ ہر پیشین گوئی کے سمجھنے میں غلطی ہولڑ کے کی پیشین گوئی میں تفاول کے طور پر ایک لڑکے کا نام بشیر رکھا وہ مر گیا تو اس وقت بھی غلطی ہوئی اب اس معرکہ کی پیشین گوئی کے اصلی مفہوم کے سمجھنے میں تو غضب ڈہایا۔اگر یہ کہا جائے کہ احد میں فتح کی بشارت دی گئی تھی آخر شکست ہوئی تو اس میں ایسے زور سے اور قسموں سے معرکہ کی پیشین گوئی نہ تھی اور اس میں لوگوں سے غلطی ہوگئی تھی اور آخر پھر جب مجمتع ہو گئے تو فتح ہوئی۔کیا کوئی ایسی نظیر ہے کہ اہل حق کو بالمقابل کفار کے ایسے صریح وعدے ہو کر اور معیار حق و باطل ٹھہرا کرایسی شکست ہوئی ہو مجھ کو تو اب اسلام پر شہے پڑنے شروع ہو گئے۔لیکن الحمد للہ ! کہ اب تک جہاں تک غور کرتا ہوں اسلام بالمقابل دوسرے اڈیان کے اچھا معلوم ہوتا ہے لیکن آپ کے دعادی کے متعلق تو بہت ہی شبہ ہو گیا۔پس میں نہایت بھرے دل سے التجا کرتا ہوں کہ آپ اگر فی الواقعہ بچے ہیں تو خدا کرے کہ میں آپ سے علیحدہ نہ ہوں اور اس زخم کے لئے کوئی مرہم عنایت فرما دیں کہ جس سے تشفی کلی ہو۔باقی جیسا لوگوں نے پہلے ہی مشہور کیا تھا کہ اگر پیشین گوئی پوری نہ ہوئی تو آپ ہی کہہ دیں گے کہ ہادیہ سے مراد موت نہ تھی الہام کے مفہوم سمجھنے میں غلطی ہوئی براہ مہربانی بدلائل تحریر فرما دیں ورنہ آپ نے مجھ کو ہلاک کر دیا۔ہم لوگوں کو کیا منہ دکھا وہیں برائے استفادہ یہ نہایت دلی رنج سے تحریر کر رہا ہوں۔( راقم محمد علی خاں )