اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 66 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 66

66 وقت میں پڑھی جاتی۔بس عصر اور مغرب کے درمیان فرصت کا وقت ملتا تھا۔مغرب کے بعد کھانے وغیرہ سے فارغ ہو کر ساڑھے آٹھ بجے نماز عشاء ختم ہو جاتی اور ایسا ہو کا عالم ہوتا کہ گویا کوئی آباد نہیں مگر دو بجے سب بیدار ہوتے اور چہل پہل ہوتی۔“ آتھم کی پیشگوئی پر ابتلاء ۱۸۹۳ء میں بمقام امرتسر ڈپٹی عبد اللہ آتھم سے اسلام اور مسیحیت کے متعلق حضرت اقدس کا ایک معرکۃ الآراء مناظرہ ہوا جس میں اسلام کو عظیم الشان فتح نصیب ہوئی۔اسکے اختتام پر آتھم صاحب کے متعلق حضور نے جو پیشگوئی فرمائی وہ حضور کے الفاظ میں جنگ مقدس سے درج ذیل ہے : آج رات جو مجھ پر کھلا وہ یہ ہے کہ جب میں نے بہت تضرع اور ابتہال سے جناب الہی میں دُعا کی کہ تو اس امر میں فیصلہ کر اور ہم عاجز بندے ہیں تیرے فیصلہ کے سوا کچھ نہیں کر سکتے تو اس نے مجھے یہ نشان بشارت کے طور پر دیا ہے کہ اس بحث میں دونوں فریقوں میں جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور بچے خدا کو چھوڑ رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے وہ انہی دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لیکر یعنی ۱۵ ماہ تک ہادیہ میں گرایا جاویگا۔اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے۔اور جو شخص سچ پر ہے اور بچے خدا کو مانتا ہے اس کی اس سے عزت ظاہر ہوگی اور اس وقت جب یہ پیشگوئی ظہور میں آوے گی بعض اندھے سو جا کھے کئے جاویں گے۔اور بعض لنگڑے چلنے لگیں گے اور بعض بہرے سننے لگیں گے۔اس پیشگوئی میں یہ شرط تھی کہ بشر طیکہ آتھم رجوع نہ کرے پندرہ ماہ کی مدت میں ہاو یہ میں گرایا جائیگا اور اس نے رجوع کر لیا۔انھم کا رجوع اس امر سے ثابت ہے کہ جب اعداء احمدیت نے زبان طعن دراز کی اور حضور کو یہ کہ کر اعتراضات کا نشانہ بنایا کہ یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی تو حضور نے بڑی قوت اور شوکت سے فتح اسلام وغیرہ کے عنوان سے بار بار انعامی اشتہار ایک ہزار سے چار ہزار تک کے انعام کے شائع کئے اور تحریر فرمایا کہ اگر آتھم حلفا یہ کہدے کہ اس نے اس عرصہ میں رجوع نہیں کیا تو اس صورت میں ایک سال کی قطعی میعاد کے اندر مر جائیگا لیکن آتھم اور اس کے معاونین کو ہمت نہ ہوئی کہ وہ مقابل میں آئیں اور وہ قسم کھانے پر آمادہ نہ ہوا۔لیکن چونکہ سزا سے بچ کر اس نے حق پوشی کی راہ اختیار کی اس لئے کتمان حق کی وجہ سے حسب پیشگوئی آخری اشتہار کے سات ماہ کے اندر ۱۸۹۶ء میں وہ مر گیا۔جہاں پیشگوئی کے آخری دن بعض کو شکوک پیدا ہوئے وہاں حضرت اقدس کی تقریر سے جس میں آپ نے الہام کے بعد صراحت فرمائی بعض نئے آدمی داخل سلسلہ ہوئے اور بعض مخلصین نے ازدیاد ایمان کے لئے بیعت ثانی