اصحاب احمد (جلد 2) — Page 65
65 کسوف و خسوف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے موافق حضرت مسیح موعود دمہدی مسعود علیہ السلام کی صداقت کی تائید میں ایک ہی رمضان مبارک میں چاند گرہن اور سورج گرہن ہوا۔اور مقررہ تاریخوں پر ہوا۔سورج گرہن کے متعلق ( جو ہر پریل ۱۸۹۴ء کو ہوا ) نیز ان مبارک ایام کی تہجد خوانی وغیرہ کا ذکر کرتے ہوئے آپ بیان کرتے ہیں کہ میں قادیان میں سورج گرہن کے دن نماز میں موجود تھا۔مولوی محمد احسن صاحب امروہی نے نماز پڑھائی تھی اور نماز میں شریک ہونے والے بے حد رور ہے تھے۔اس رمضان میں یہ حالت تھی کہ صبح دو بجے سے چوک احمدیہ میں چہل پہل ہو جاتی۔اکثر گھروں میں اور بعض مسجد مبارک میں آموجود ہوتے جہاں تہجد کی نماز ہوتی۔سحری کھائی جاتی اور اول وقت صبح کی نماز ہوتی۔اس کے بعد کچھ عرصہ تلاوت قرآن شریف ہوتی اور کوئی آٹھ بجے کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سیر کو تشریف لے جاتے سب خدام ساتھ ہوتے۔یہ سلسلہ کوئی گیارہ بارہ بجے ختم ہوتا۔اس کے بعد ظہر کی اذان ہوتی اور ایک بجے سے پہلے نماز ظہر ختم ہو جاتی۔اور پھر نماز عصر بھی اپنے اوّل الفضل پر چه ۳۸-۶-۱۴۔سورج گرہن اور نماز کا ذکر ذکر حبیب اور اصحاب احمد جلد اول (صفحہ ۸۱ حاشیہ) میں بھی ہے۔سورج گرہن کی نماز کی ادائیگی کے مقام کے متعلق اختلاف ہے۔مکرم عرفانی صاحب مجھے تحریر ☆ فرماتے ہیں کہ ”میرے علم میں صحیح بات یہ ہے کہ مسجد مبارک کی چھت پر یہ نماز ادا کی گئی تھی۔“ بقیہ حاشیہ: مکرم بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی فرماتے ہیں کہ یہ احمدی تھے۔مکرم میاں محمد عبدالرحمن خاں صاحب بیان کرتے ہیں کہ یہ مولوی فتح محمد خانصاحب مولوی فاضل تھے۔ضلع لدھیانہ کے باشندہ تھے۔صاحب اولاد تھے۔مصلح الاخوان جو مالیر کوٹلہ میں حضرت والد صاحب نے جاری کیا تھا اس میں ملازم رہے اور ریاست پٹیالہ میں محکمہ چونگی بھی ملازم رہے۔احمدی تھے ۱۹۴۷ء میں تقسیم ملک تک زندہ تھے اب معلوم نہیں۔“ مدرسه 66 (۳۱۲) میاں عبدالکریم صاحب تمام ملازم خان صاحب ملیر کوٹلہ۔“ (۳۱۳) میاں عبدالجلیل خانصاحب شاہجان آباد ملازم خان صاحب ملیر کوٹلہ “ مکرم میاں محمد عبدالرحمن خانصاحب بیان کرتے ہیں کہ نواب یوسف علی خانصاحب کے خزانچی تھے۔فوت ہو چکے ہیں۔“