اصحاب احمد (جلد 1) — Page 86
85 کے باوجود آپ خشک طبع نہ تھے بلکہ با مذاق طبیعت بھی رکھتے تھے۔آپ کی عبادت گذاری: آپ تہجد گزار تھے۔کئی بار دیکھا گیا کہ تہجد کے وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی فارسی کی نظمیں عجب نوریست در جان محمد اور در دلم جوشد ثنائے سرورے وغیرہ نماز میں خوش الحانی سے پڑھتے تھے۔آپ کو قرآن مجید سے بہت محبت تھی۔آپ کی غرباء پروری : با وجود بارعب اور جری ہونے کے غرباء ومساکین اور خصوصاً بیوگان کے لئے آپ کے دل میں بے حد درد تھا۔اور اُن کی خبر گیری بہت ہمدردی اور توجہ سے کرتے تھے۔فرمایا کرتے تھے کہ سائل کو خالی واپس نہیں کرنا چاہئے۔اگر پاس کچھ نہ ہو تو لطیفہ یا دلجوئی کی بات سنا کر ہی اسے خوش کر دینا چاہئے۔خاندان کی مملوکہ اراضی کے گاؤں کی متعدد بیوہ مستورات نے آپ کی وفات پر بے حد صدمہ محسوس کرتے ہوئے اظہار کیا کہ پہلے تو ہم مفلوک الحال محسوس نہیں کرتی تھیں۔لیکن در حقیقت اب ہم مفلوک الحال ہوئی ہیں۔تبلیغ کا شوق: آپ تبلیغ کا شوق رکھتے تھے۔آپ کی بڑی خواہش یہ ہوتی تھی کہ مجالس میں اللہ تعالیٰ کا نام بلند کیا جائے۔چنانچہ اپنے بیٹے کو جب کہ وہ دس گیارہ سال کا بچہ تھا۔مختلف مجالس میں لے جا کر اس سے آنحضرت صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعتیں اور قومی ترانے پڑھوایا کرتے تھے۔وفات: آخر عمر تک آپ جسمانی لحاظ سے تو انا اور مضبوط تھے۔اور بعض اوقات ستر بہتر میل گھوڑے کی سواری کر لیا کرتے تھے۔آپ کی وفات قریباً ۵۳ سال کی عمر میں ضربتہ الشمس سے منچن آباد میں ہوئی۔آپ کے بیٹے کی عمر اس وقت پندرہ سال کی تھی اور وہاں کوئی احمدی نہ تھا۔اور نہ کوئی عزیز رشتہ دار۔اس لئے آپ کو وہیں دفن کر دیا گیا۔* * اس خاندان کے صحابہ کی قبریں ان کے خاندان کے نزدیک معروف ہیں۔(مؤلف)