اصحاب احمد (جلد 1) — Page 28
28 سنائی کہ اس خوشی اور پاک خوشی کا اندازہ کچھ دیکھنے والے ہی کر سکتے ہیں ہمارا ایمان اس وقت خدا تعالیٰ کے کامل علم اس کے مد بر بالا رادہ ہونے اور متصرف اور مقتدر ہونے اور معاً حضرت اقدس کے مہبط انوار البہی ہونے۔مکلم اللہ ہونے۔محدث اللہ ہونے۔خلیفہ اللہ ہونے اور بالآ خر خدا کی مرضی کی راہوں کے ایک ہی راہنما ہونے پر ایسا پختہ ہوا اور اس میں ایسی ترقی محسوس ہوئی جیسے برسات کے بادل سے نباتات کونشو ونما حاصل ہوتا ہے۔عین اس خوشی کے وقت مجھے جو بات مکدر کرتی تھی وہ افسوس سے اس خیال کا دل میں آنا تھا کہ کاش! اس وقت میرے عزیز احباب بہت سے یہاں موجود ہوتے۔اب میں کیونکر سچا نقشہ اس پاک جلسہ کا انہیں کھینچ کر دکھا سکوں گا۔بہر حال غور کا مقام ہے ایک دہریہ اور میٹیریلسٹ بھی تو اس سے خدا تعالیٰ کی ہستی اور اس کے علم اور تصرف الاشیاء ہونے کا یقین کر سکتا ہے۔چودہ سال اس سے قبل ایک بھی بچہ تو نہ تھا۔اس حوادث وفتن کی سدا ہدف رہنے والی زندگی کا کون دعوئی اور تحدی سے ٹھیکہ دار ہو سکتا ہے۔ذرات کا ئنات پر متصرف اور عالم بالجزئیات و الکلیات خدا ہی جان سکتا اور کہہ سکتا تھا کہ اتنے عرصہ دراز تک حضرت اقدس زندہ بھی رہیں گے اور پھر تین کو چار کرنے والا بیٹا بھی ہوگا۔پاک ہے تیری شان اے میرے یگانہ خدا تو نہیں پہچانا جاسکتا مگر ان ہی راہوں سے جو تیرے برگزیدہ اہم اور محدث تیار کرتے ہیں۔” میرے دوستو! آج دنیا میں کوئی اور راہ بھی ہے جس پر چلنے سے وہ خدامل سکتا ہے جو آدم سے لے کر خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمکلام ہوتا اور اپنے عجائبات قدرت دکھاتا رہا ؟ وہی خدا جو دعاؤں کو سنتا اور حزن کی گھڑیوں میں اپنے صریح کلام سے شکستہ دلوں کو تسلی دیتا اور اب بھی اپنے راستباز بندوں سے وہی معاملہ کر دکھاتا ہے جس کے نمونے اس نے آدم و نوح و ابراہیم و داؤ د و سلیمان و یوسف و موسی" ویسے" واحمد مجتبی علی نبینا وعلیہم الصلوۃ والسلام کی رفتار زندگی میں دکھائے۔”اے میرے مرشد میرے آقا مسیح موعود اللہ تعالیٰ کا سلام تجھ پر ہو۔تیرے درودیوار پر تیری چھتوں پر تیری چوکھٹوں پر تیرے چاروں طرف تیرے مخلص دوستوں پر خدا تعالیٰ کی برکتیں نازل ہوں۔تجھے خدا کی طرف سے وہ نصرت اور تائید پہنچے جو آخر زمانہ میں خدا تعالیٰ کے