اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 161 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 161

159 بیگم صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ اس جواب کے آنے پر مجھے لکھا کہ اللہ تعالیٰ کو اس طرح منظور تھا کہ میں مرکز سے دور رہوں۔جیسا کہ حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ میں تو چاہتا ہوں کہ مرکز میں رہوں یا مرکز کے قریب رہوں۔مگر اللہ تعالیٰ کو جہاں منظور ہوتا ہے۔وہاں رکھتا ہے بندے کو اس کی رضا پر راضی رہنا چاہئے۔مجھے ملک صاحب نے تحریر فرمایا: زیادہ میلان سر دست یہی ہے کہ ربوہ میں جا کر رہیں۔وہاں مکان کا سوال ہے۔میں تو کوئی زمین وہاں خرید نہیں سکا۔ہاں سعادت احمد نے ایک کنال اور کرامت نے دو کنال زمین خریدی ہے۔مگر اس پر مکان ابھی نہیں بنا۔سعادت کے پاس یا میرے پاس تو ابھی وسائل بھی نہیں۔اس بارہ میں بھی دعا کریں اللہ تعالیٰ ایسی جگہ لے جائے جو ہمارے دین و دنیا کے لئے بہتر ہو۔“ ہے آپ کی سواد وسور و پیہ ماہوار پنشن ہوئی تھی۔آپ نے پنشن Commute کرا کے قریباً آٹھ ہزار روپیہ نقد لے کر قادیان میں مکان بنایا۔اس وجہ سے پنشن ۷۵ روپے ماہوار ملتی تھی اس کمی کی وجہ سے ہجرت کے بعد آپ ربوہ میں مکان بنانے کے لئے کوئی رقم جمع نہ کر سکے تھے۔وفات سے ایک روز پہلے کا مکتوب: آپ نے اپنے بیٹے ملک بشارت احمد صاحب کو وفات سے ایک روز قبل ۲۶/۱۰/۵۰ کو جومکتوب تحریر کیا اس کا اقتباس درج ذیل ہے۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کو سلسلہ سے کس قدر محبت تھی۔فرماتے ہیں:۔۲۴ ۲۵ اکتو برسنیچر اور اتوار کے روز جماعت احمد یہ سیالکوٹ کا سالانہ جلسہ تھا۔خوب رونق رہی۔مرکز سے میاں ناصر احمد صاحب اور شمس صاحب اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔دوسرے دوست تشریف لائے تھے۔راولپنڈی سے میاں عطاء اللہ صاحب۔اور جگہ کے دوست بھی آئے ہوئے تھے۔سید ولی اللہ شاہ صاحب بھی آئے تھے۔لیکچر بفضل خدا بہت اچھے ہوئے۔اور لوگوں نے امن سے سُنا۔بہت سے غیر احمدی دوست بھی شریک جلسه ہوئے۔اور مرزا ناصر احمد صاحب نے جب کمیونزم پر لیکچر دیا تو اس وقت سردار عبدالصمد صاحب ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ بھی موجود تھے۔انہوں نے بھی لیکچر کو بہت پسند کیا۔الغرض جلسه بفضل خدا کامیاب رہا۔تبلیغ اچھی ہوئی۔میں بھی دو دن مصروف رہا اور دن خوب گذرے۔سید ولی اللہ شاہ صاحب اور دوسرے دوستوں سے ربوہ آنے کے متعلق بات