اصحاب احمد (جلد 1) — Page 145
143 حضور کا لوگوں کی طول طویل باتیں بغیر ملال کے سُننا: ملک صاحب بیان کرتے تھے۔ایک صاحب میاں جان محمد نام ہمارے گھر کے سامنے امرتسر میں رہتے تھے وہ بہت باتونی تھے۔حضرت اقدس کی کتاب سُرمہ چشم آریہ کے عملاً حافظ تھے اور باوجود ان پڑھ ہونے کے آریوں سے خوب بحث کیا کرتے تھے۔ان کو مراق کی مرض ہو گئی۔جو بھی ملتا اس کو اپنی مرض کے لمبے ( چوڑے ) حالات سُناتے تھے۔لوگ تنگ آجاتے اور ان کی باتیں سننے سے گریز کرتے ان کو کسی نے کہا تم قادیان جاؤ اور ( حضرت ) مولوی حکیم نور الدین صاحب سے علاج کرواؤ۔انہوں نے کہا کہ وہ بڑے آدمی ہیں میری داستان کب سُنیں گے؟ اس شخص نے کہا نہیں وہ بڑے با اخلاق انسان ہیں ضرور تمہاری باتیں سنیں گے۔چنانچہ وہ صاحب قادیان آگئے۔اتفاق ایسا ہوا کہ جب وہ یکے سے جا کر اُترے (تو) اسی وقت حضرت اقدس بمعہ خدام سیر سے واپس تشریف لا رہے تھے۔یکہ والے نے کہا وہ (حضرت ) مرزا صاحب آ رہے ہیں پھر کیا تھا وہ صاحب یکہ سے اُترے اور سیدھے جا کر مصافحہ کیا اور اپنی بیماری کا حال اپنی مراقی حالت میں سنانا شروع کیا۔داستان اس قدرلمبی ہوگئی کہ سب لوگ تنگ آگئے مگر حضرت اقدس آرام سے کھڑے ان کے ہاتھ میں ہاتھ دیئے سب کچھ سنتے رہے۔آخر کار میاں جان محمد صاحب نے خود ہی کہا کہ اب میرا منہ خشک ہو گیا ہے۔اس پر حضور نے فرمایا بہت اچھا آپ مہمان خانہ میں جاویں اور کچھ کھاویں پئیں۔اور پھر مولوی صاحب ( مراد حضرت حکیم نور الدین صاحب کو حالات سُنا کر ان سے دوائی لیں۔چنانچہ یہ صاحب تازہ دم ہوکر ( حضرت ) مولوی ( نور الدین صاحب) کی خدمت میں حاضر ہو گئے اور وہی داستان طویل شروع کر دی ( حضرت ) مولوی صاحب نے جھٹ نسخہ لکھ کر دے دیا اور کہا مجھے آپ کی مرض معلوم ہے اور اس کی داستان نہ سنی۔انہوں نے نسخہ تو لے لیا مگر کہا کہ کہتے تو تھے کہ مولوی نور الدین صاحب بڑے با اخلاق ہیں مگر حضرت مرزا صاحب کے اخلاق سے ان کو کیا نسبت؟ اس کا ان پر اس قدر اثر ہوا کہ انہوں نے بیعت کر لی۔یہ واقعہ ان کی موجودگی میں ڈاکٹر عباداللہ بقیه حاشیه : (ب) معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ مکرم سید احمد نور صاحب کے قادیان میں آمد سے پہلے کا ہے کیونکہ ملک صاحب بیان کرتے ہیں کہ شہادت کے فوراً بعد آپ قادیان گئے اور فوراً بعد سید صاحب قادیان نہیں آئے بلکہ خوست سے ۸ نومبر ۱۹۰۳ء کو پہنچے ( تذکرۃ الشہادتین صفحہ ۱۸) اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یہ چاہتے تھے یہ کتاب گورداسپور مقدمہ پر ۱۶ اکتوبر ۱۹۰۳ء کو جانے تک مکمل ہو جائے (صفحہ ۷۳۷۲) چنانچہ صفحہ ۷۸ کے آخر پر یہی تاریخ تصنیف درج ہے اور یہ فارسی نظم صفحہ ۵۸ تا ۶۰ پر درج ہے۔اس لئے لازماً سید صاحب کی آمد سے قبل ملک صاحب قادیان گئے ہونگے۔(مؤلف)