اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 127 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 127

125 سے عورتوں اور بچوں کے امراض کا علاج کرتیں۔آنکھوں میں ڈالنے کا لوشن، ٹنکچر آیوڈین امرت دھارا کی قسم کی ایک دوائی سرکہ اجوائن۔کونین کی گولیاں اور میگ سلفاس اور ایک آدھ دوائی ممکن ہے اور بھی ہوتی ہو۔صبح سویرے ہی دیہات کی عورتیں اپنے بچوں وغیرہ کو لے کر آنا شروع ہو جاتیں۔اور یہ شغل ایک دو گھنٹے جاری رہتا۔عام عورتیں تو جانتی ہی تھیں کہ وہ یہ سب کچھ خدمت خلق کے جذبہ کے ماتحت کرتی ہیں، لیکن اگر کوئی نا واقف عورت کبھی دوائی کی قیمت پیش کرتی تو آپ اُسے بہت ناپسند کرتیں۔تعلیم قرآن مجید کا انتظام: گھر میں چھوٹا سا مدرسہ بھی جاری تھا۔گاؤں کے چھوٹے بچے اور بعض مستورات بھی قرآن مجید پڑھنے کے لئے آتیں۔پہلے انہیں قاعدہ اور پھر قرآن مجید پڑھایا جاتا۔یہ قاعدے اور قرآن مجید منشی صاحب کی طرف سے بلا قیمت مہیا کئے جاتے۔لیکن جب کوئی قرآن مجید ختم کرتا تو اُسے تاکید کی جاتی کہ قادیان سے قیمتا قرآن مجید منگوا کر گھر میں رکھو اور پڑھتے رہو۔چندہ میں مداومت: آپ روزانہ استعمال کے لئے کچھ نقدی کسی رو مال میں باندھ کر اپنے پاس ہر وقت رکھتی تھیں۔جب جمعہ کی نماز کے لئے گھر سے جانے لگتیں تو اس میں سے دو پیسے نکال کر اس رومال کے ایک کونے میں باندھ لیتیں۔اور مسجد میں جا کر صندوقچی میں جو مسجد کی ضروریات کے لئے چندہ کی غرض سے مسجد میں رکھی ہوتی ہے یہ دو پیسے ڈال دیتیں۔اور اس میں اس قدر با قاعدہ تھیں کہ درمیان میں کچھ عرصہ صندوقچی کا انتظام بند بھی ہوگیا پھر بھی وہ اپنے دو پیسے کارکنات لجنہ اماءاللہ کو ادا کر آتیں۔مسجد لنڈن کے لئے چندہ: جس وقت حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مسجد لنڈن کے لئے مستورات میں چندہ کی تحریک فرمائی تو آپ کے پاس کافی زیور موجود تھے۔آپ نے غالباًا صرف ایک زیور اپنی والدہ مرحومہ کی نشانی کے طور پر رکھ کر بقیہ سارا زیور اپنی خوشی سے پیش کر دیا۔جس وقت آپ گھر سے زیور بھجوانے لگیں تو چاندی کا زیور ترازو میں سیروں کے حساب تو لا تھا۔اور تو لنے کے بعد بہت خوش ہوئیں کہ اس کا اتنا وزن ہوا ہے اور بہت ہی خوشی سے اُسے پیش کیا۔