اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 114 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 114

112 * بیعت کے وقت کا نظارہ: اپنی بیعت کے وقت کا جو نظارہ منشی امام الدین صاحب نے اپنی روایات لکھواتے ہوئے بیان کیا وہ آپ کے اپنے الفاظ میں یہ ہے: میں نے ۱۸۹۴ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دست مبارک پر بیعت کی۔شام کی نماز کے وقت تک اخویم منشی عبدالعزیز صاحب اور بھائی جمال الدین صاحب سیکھوانی میرے ساتھ تھے۔نماز سے فارغ ہونے کے بعد منشی صاحب موصوف نے میری طرف اشارہ کر کے (حضرت اقدس کی خدمت میں ) عرض کیا۔حضور ان کی بیعت لے لیں حضور نے فرمایا اندر آجائیں۔جب میں اکیلا بیت الفکر میں گیا تو حضور ایک چارپائی کی پائنتی کی طرف بیٹھ گئے اور مجھے چارپائی کے سرہانے بیٹھنے کا ارشاد فرمایا۔میں پہلے تو جھجکا مگر حضور کے دوبارہ ارشاد فرمانے پر بیٹھ گیا۔اور حضور نے بیعت لی۔حضور کا یہ برتاؤ دیکھ کر میں حیران رہ گیا کہ کہاں وہ پیر جن کے برابر کوئی بیٹھ نہیں سکتا۔اور کہاں اللہ تعالیٰ کا مسیح موعود جو ایک ناچیز خادم کو چار پائی کے سرہانے بٹھاتا ہے۔اخویم منشی عبدالعزیز صاحب کو کمرے کے اندر داخل نہیں ہوئے تھے لیکن باہر سے یہ نظارہ دیکھ رہے تھے۔“ رض تبلیغ میں سرگرمی: آپ نے خود بیعت کرنے کے بعد اپنے اہلبیت کو بھی کچھ عرصہ کی تبلیغ کے بعد اسی سال بیعت کروائی اور پھر دوسروں کو تبلیغ کرنے میں مشغول ہو گئے۔آپ کی تبلیغ اور کوشش سے خدا تعالیٰ کے فضل سے تین جگہ جماعتیں قائم ہوئیں، جن میں سے تلونڈی جھنگلاں کی جماعت ضلع گورداسپور کی بڑی جماعتوں میں سے تھی۔اس جماعت کی ترقی میں مولوی رحیم بخش صاحب رضی اللہ عنہ کی کوششوں کا بھی دخل تھا، لیکن ابتدا منشی صاحب کی کوشش سے ہوئی۔آپ کے گھر سے ایک دفعہ بیمار ہوگئیں۔اُن کے علاج کے لئے موضع بہادر حسین سے مولوی صاحب کو بلوایا گیا۔اور پھر منشی صاحب نے آپ کو تلونڈی جھنگلاں میں مستقل رہائش اختیار کرنے پر آمادہ کر لیا تا کہ وہاں ٹھیر کر جماعت کی تربیت کرسکیں۔اوہ چپ اور قلعہ گلانوالی کی جماعتیں بھی آپ کی تبلیغ اور کوششوں سے قائم ہوئیں۔تقسیم ملک سے قبل اندازاً تلونڈی میں ساڑھے نو سو لوہ چپ میں چالیس اور قلعہ گلانوالی میں ڈیڑھ صد احمدی نفری تھی۔* خطوط وحدانی کے الفاظ خاکسار کے ہیں۔(مؤلف) ** ان دیہات کے لئے دیکھئے نقشہ ضلع گورداسپور **