اصحاب احمد (جلد 1) — Page 84
83 مرزا رسول بیگ صاحب *: مرزا نیاز بیگ صاحب کی پہلی شادی محترمہ آمنہ صاحبہ بنت مرزاحسین بیگ صاحب صوبیدار کنه کلانور سے ہوئی تھی۔ان کے بطن سے مرزا رسول بیگ صاحب اور مرزا اکبر بیگ صاحب پیدا ہوئے۔اس خاندان میں موصوفہ کے لمبے عرصہ کے روزے مشہور ہیں۔اور یہ امر بھی کہ وہ اتنی حیادار تھیں کہ کسی عورت نے کبھی انہیں اپنے بچے کو دودھ پلاتے نہیں دیکھا۔بہت عبادت گزار تھیں۔غالباً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعوئی سے پہلے وفات پاگئی تھیں اور کلانور میں مدفون ہوئیں۔آپ کے بیٹے مرزا رسول بیگ صاحب جو ضلعدار نہر رہے ہیں۔وجیہہ اور بارعب شخص تھے۔ان کے متعلق آپ کے والد صاحب فرماتے تھے کہ یہ میرا نہایت تابعدار اور فرمانبردار بچہ ہے۔کبھی حکم عدولی نہیں کرتا۔لیکن اگر میری طرف آنکھ اُٹھا کر بھی کسی امر کے متعلق ”نہیں“ کہہ دے تو مجھے حوصلہ نہیں پڑتا کہ اس کی بات کا انکار کر دوں۔آپ کے والد صاحب نے جب ۱۸۹۳ء میں بیعت کی تو اس کے تھوڑے عرصہ بعد ہی آپ نے بیعت کر لی تھی۔صحیح تاریخ بیعت معلوم نہیں ہوسکی۔قریب ترین تاریخ کا حوالہ جس میں آپ کا ذکر سلسلہ کے لٹریچر میں معلوم ہو سکا ہے درج ذیل ہے: ۲۵ اگست ۱۸۹۸ء کی فجر کی نماز کے بعد حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام بیٹھ گئے۔مجلس میں باہر سے آنے والے احباب میں سے مرزا نیاز بیگ صاحب اور ان کے بیٹے مرزا رسول بیگ صاحب اور مرزا ایوب بیگ صاحب ٹیچر چیفس کالج بھی تھے۔ہے خلافت ثانیہ سے وابستگی : جب سید نا حضرت خلیفتہ اسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کی وفات پر جماعت میں اختلاف ہو ا تو مرزا رسول بیگ صاحب بمقام منچن آباد (ریاست بہاولپور ) میں تھے۔ایک طرف مولوی علی احمد صاحب حقانی کے راولپنڈی سے خلافت کی تائید میں اور دوسری طرف آپ کے چھوٹے بھائی ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب کے خلافتِ ثانیہ کے خلاف خطوط آنے شروع ہوئے۔آپ نے ایک رات استخارہ کیا اور صبح کی اذان سے کچھ وقت قبل اپنے اہل خانہ سے کہا کہ لو جی! ہمارا فیصلہ ہو گیا۔میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ آسمان سے ایک رسہ لٹک رہا ہے۔میں نے اُسے پکڑا یہ دیکھنے کے لئے کہ مضبوط ہے یا کہ نہیں دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر اس پر اپنا بوجھ ڈالا۔جونہی میں نے بوجھ ڈالا اور دیکھا کہ رسہ مضبوط ہے غیب سے آواز آئی اسے مضبوطی سے پکڑو یہ میاں محمود کا رسہ ہے۔“ یہ خواب سُن کر آپ کے اہلبیت نے آپ کو مبارک باد کہی اور دن چڑھنے پر آپ نے اپنی بیعت کا خط * یہ سوانح آپ کے بیٹے مرزا اعظم بیگ صاحب سے دستیاب ہوئے ہیں۔(مؤلف)