اصحاب احمد (جلد 1) — Page 7
7 تتمہ حضور کی تقریروں کے اقتباسات تمھیں صفحات میں درج کر دیئے ہیں۔ا۔حیات صادق کبیر : ( تقطیع ۲۳۰ ۳۰ صفحات ۱۶ مطبوعہ ابراہیم پریس لکھنؤ ) یہ کتاب حضرت مفتی محمد صادق ۱۶ صاحب کی سوانح عمری ہے جو کہ مرزا کبیر الدین احمد صاحب نے لکھنؤ سے ۱۹۴۲ء میں شائع کی تھی۔۱۲۔صادق بیتی ( تقطیع ۲۰×۳۰ صفحات ۲۸ مطبوع کو اپر یو کیپیٹل پرنٹنگ پریس لاہور ) حضرت مفتی محمد صادق 17 ۱۶ صاحب کے حالات میں یہ مختصر رسالہ مشتاق انگر صاحب لکھنوی نے ۱۹۴۶ ء میں شائع کیا تھا۔۱۳ لطائف صادق ( تقطیع ۳۰۲۳۰ صفحات ۱۴۴ مطبوعہ ضیاء الاسلام پر لیس قادیان) یہ کتاب حضرت مفتی محمد صادق صاحب کی تبلیغی سوانح عمری ہے جسے مکرم شیخ محمد اسماعیل صاحب پانی پتی نے مرتب کر کے ۱۹۴۶ء میں شائع کیا تھا۔اس میں وہ تبلیغی مباحث درج ہیں جو حضرت مفتی صاحب کو ہندوستان، یورپ اور امریکہ میں ہندوؤں، یہودیوں، عیسائیوں اور دہریوں سے وقتا فوقتا پیش آئے۔بہت ہی پُر لطف اور دلچسپ کتاب ہے۔اب تک ان چند کتابوں کے شائع ہو سکنے سے سیر صحابہ کے متعلق لٹریچر کی شدید قلت ظاہر ہے۔لہذا ہم پر فرض عائد ہوتا ہے کہ ہم ان بزرگوں کی قدر پہچانتے ہوئے ان کے حالات محفوظ کرنے کی طرف توجہ دیں۔یہ عہد جس میں دجال جیسا عظیم فتنہ ظاہر ہوا۔جس سے تمام انبیاء اپنی اپنی جماعتوں کو ڈراتے رہے۔ایک نہایت اہم زمانہ ہے۔اس زمانہ میں جن لوگوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو قبول کیا ان کے ایمان و اخلاص کی عظمت کا اظہار مستقل طور پر ضروری ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: رض مبارک وہ جو اب ایمان لایا صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا وہی کے ان کو ساقی نے پلا دی فسبحان الذي اخزى الاعادي اسی طرح حضور علیہ السلام ڈاکٹر عبد الحکیم کے جواب میں فرماتے ہیں: ”آپ کہتے ہیں کہ صرف ایک حکیم مولوی نور الدین صاحب اس جماعت میں عملی رنگ اپنے اندر رکھتے ہیں۔دوسرے ایسے ہیں اور ایسے ہیں۔میں نہیں جانتا کہ آپ اس افترا کا کیا خدا تعالیٰ کو جواب دیں گے۔میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ کم از کم ایک لاکھ آدمی میری جماعت میں ایسے ہیں کہ بچے دل سے میرے پر ایمان لائے ہیں اور اعمال صالحہ بجالاتے ہیں اور باتیں سننے کے وقت اس قدر روتے ہیں کہ ان کے گریبان تر ہو جاتے ہیں۔میں اپنے ہزار ہا بیعت کنندوں میں اس قدر تبدیلی دیکھتا ہوں کہ موسیٰ نبی کے پیروان سے جو