اصحاب احمد (جلد 1) — Page 62
62 جو ازل سے مصلح موعودؓ سے منسوب ہو کر حضرت مسیح موعود کا جزو کہلانے والی تھیں۔میں سمجھتا ہوں یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس ایمان کی جزا تھی جو مریم بیگم مرحومہ کی والدہ نے اس وقت ظاہر کیا تھا۔“۳۶ ہمارے لئے سبق : صاحبزادہ صاحب مرحوم کا عرصہ حیات اگر چہ بہت مختصر تھا اور اس میں بہت تھوڑے واقعات ملتے ہیں، لیکن آپ کی زندگی اور وفات میں ہمیں بہت سے دینی اور روحانی سبق حاصل ہوتے ہیں، بالخصوص آپ کی ولادت دوران حیات اور وفات کے تعلق میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اسوۂ کاملہ کے بہت سے پہلو روشن اور اُجاگر ہوتے ہیں۔اوپر جو حالات صاحبزادہ صاحب مرحوم کے ذکر میں درج ہوئے ہیں اُن سے مندرجہ ذیل سبق نمایاں طور پر حاصل ہوتے ہیں۔(1) مومن کو کسی حالت میں بھی مایوس نہیں ہونا چاہئے بلکہ مصیبت وابتلاء کے موقعہ پر آستانہ الہی پر چھکنا چاہئے۔(۲) مومن کو چاہئے کہ اگر منشاء الہی سے کوئی مصیبت لاحق ہو تو دیگر احسانات الہی یاد کر کے اس تکلیف پر کامل صبر اور رضاء بالقضاء کا نمونہ دکھائے۔اولاد میں سے کوئی فوت ہو تو سمجھے کہ خدا کا مال تھا اس نے جس طرح چاہا اپنے مال میں تصرف کیا۔(۳) مصیبت میں مبتلا شخص اگر خود صبر و رضا کا نمونہ دکھانے کے علاوہ دوسروں کو عین اپنے صدمہ کے وقت اس کی تلقین کرے تو یہ طریق نتیجہ کے لحاظ سے بہت مفید ثابت ہوتا ہے۔(۴) مومن اپنی تکلیف و مصیبت کے وقت اپنی دعاؤں میں دوسروں کو بھی شامل کرے کیونکہ درد اور اضطراب کے موقعہ پر ہی قبولیت زیادہ ہوتی ہے۔(۵) عقیقہ کی خوشی میں عزیز واقارب اور رشتہ داروں کے علاوہ دوستوں کو بھی شامل کیا جائے۔اللہ تعالیٰ کی رضاء اسی میں ہے کہ جب اس کی طرف سے کوئی خوشی کا موقعہ پیدا ہو تو اس کی تحدیث معروف رنگ میں ضرور کرے۔(1) اولاد کی تربیت کی طرف پوری توجہ دینی چاہئے۔یہ خیال کر کے بے توجہی سے کام نہ لیا جائے کہ یہ ابھی بچہ ہے بڑا ہو کر خود ہی سمجھ جائے گا یا یہ کہ اس کے متعلق خدائی وعدے ہیں، اس لئے چونکہ یہ بہر حال صالح ہونا ہے اس لئے تربیت کی کوئی ذمہ داری نہیں۔(۷) ادنی ادنی احسان کرنے والوں کے احسان کا بھی بدلہ دینا چاہئے۔(۸) طبیب میں علاوہ علم کے نیکی اور تقویٰ کا ہونا ضروری ہے تا کہ اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال ہو۔