اصحاب احمد (جلد 1) — Page 52
52 کرتے ہیں۔بعض لوگ خطوں میں لکھتے ہیں کہ اگر ہمیں اتنا رو پیل جاوے یا ہمارا یہ کام ہو جاوے تو ہم بیعت کر لیں گے۔بیوقوف اتنا نہیں سمجھتے کہ خدا کو تمہاری بیعت کی ضرورت کیا ہے۔ہماری جماعت کا ایمان تو صحابہ والا چاہئے جنہوں نے اپنے سر خدا کی راہ میں کٹوا دیئے تھے۔اگر آج ہماری جماعت کو یورپ اور امریکہ میں اشاعت اسلام کے لئے جانے کو کہا جاوے تو اکثر یہی کہہ دینگے جی ہمارے بال بچوں کو تکلیف ہوگی ہمارے گھروں کا ایسا حال ہے یہ ہے وہ ہے إِنَّ بُيُوتَنَا عَوْرَةٌ۔اور ہم نے یہ تو نہیں کہنا کہ جا کر سر کٹوا ئیں، بلکہ یہی ہے کہ دین کے لئے سفر کی تکالیف اور صدمے اُٹھا دیں۔مگر اکثر یہی کہہ دینگے جی گرمی بہت ہے زیادہ تکلیف کا اندیشہ ہے۔مگر خدا کہتا ہے کہ جہنم کی گرمی اس سے بھی زیادہ ہوگی، نَارُ جَهَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا - صحابہؓ کا نمونہ مسلمان بننے کے لئے پکا نمونہ ہے۔ابھی تو جماعت پر مجھے یہ بھی اطمینان نہیں کہ اس کا نام میں جماعت رکھوں۔ابھی تو یہ حشو ہے۔ایسا انسان تو ہمیں نہیں چاہئے جو صرف خوشی میں ہی خدا کو پکارے۔ایسے شخص پر تو ذرا خدا کا امتحان آیا اور طرح طرح کی مایوسئیں اور بے امید میں ظاہر کرنی شروع کر دیں۔مگر خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔اَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا امَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ۔کیا یہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ صرف اتنا کہہ دینے سے ہی کہ ہم ایمان لائے چھوٹ جائیں گے اور ان کا امتحان نہ لیا جاوے گا۔امتحان کا ہونا تو ضروری ہے اور امتحان بڑی چیز ہے سب پیغمبروں نے امتحان سے ہی درجے پائے ہیں۔یہ زندگی دنیا کی بھروسہ والی زندگی نہیں ہے۔کچھ ہی کیوں نہ ہو آخر چھوڑنی پڑتی ہے۔مصائب کا آنا ضروری ہے۔دیکھو ایوب کی کہانی میں لکھا ہے کہ طرح طرح کی تکالیف اسے پہنچیں اور بڑے بڑے مصائب نازل ہوئے اور اس نے صبر کئے رکھا۔ہمیں یہ بہت خیال رہتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو ہماری جماعت صرف خشک استخوان کی طرح ہو۔بعض آدمی خط لکھتے ہیں تو اُن سے مجھے بُو آجاتی ہے۔شروع خط میں تو وہ بڑی لمبی چوڑی باتیں لکھتے ہیں کہ ہمارے لئے دعا کرو کہ ہم اولیاء اللہ بن جاویں اور ایسے اور ویسے ہو جاویں اور آخیر پر جا کر لکھ دیتے ہیں کہ فلاں ایک مقدمہ ہے اس کے لئے ضرور دعا کریں کہ فتح نصیب ہو۔اس سے صاف سمجھ میں آتا ہے