اصحاب احمد (جلد 1) — Page 37
37 قبول ہوگئی۔نو دن کا بخار ٹوٹ گیا۔یہ دُعا قبول ہو گئی اور تپ جو لازم حال ہورہا ہے وہ نو دن پورے کر کے دسویں دن ٹوٹ جاوے گا (یہ الہامات اخبار بدر مورخه ۲۹/ اگست ۱۹۰۷ء میں شائع ہو گئے تھے ) چنانچہ ایسا ہی ظہور میں آیا۔اور خدا تعالیٰ نے دسویں دن بخار توڑ دیا یہاں تک کہ لڑکا تندرست ہو کر باغ سیر کرنے کے لئے چلا گیا۔یہ خدا کا بڑا نشان تھا جو ظہور میں آیا کیونکہ اس میں ایک دعا کے قبول ہونے کی بشارت ہے اور دوسرے تاریخ صحت مقرر کر دی گئی ہے۔جس کی تمام جماعت گواہ ہے۔اور اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔فَلا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولٍ يعنى خدا تعالیٰ کھلے کھلے غیب پر اسی کو اطلاع دیتا ہے جو اس کا پسندیدہ رسول ہو اور اس الہام کے ساتھ یہ بھی الہام تھا انّي مَعَكَ یا ابْرَاهِيمُ لَا تَخَفْ صَدَّقُتُ قَوْلِى یعنی اے ابراہیم میں تیرے ساتھ ہوں، کچھ خوف نہ کر میں اپنی بات کو کچی کردوں گا۔چنانچہ فرمودہ خدا تعالیٰ سچا ہو گیا اور اس خوشی کے ساتھ یہ مبارک تقریب بھی پیش آئی کہ مبارک احمد کا نکاح ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب کی لڑکی مریم کے ساتھ اسی مبارک دن (۳۰؎ اگست ۱۹۰۷ء) میں ہو گیا۔خدا اس نکاح کو مبارک کرے۔اور اسی روز اسی وقت حضرت مولوی حکیم نور الدین صاحب کے لڑکے عزیز عبد الحئی کا نکاح پیر منظور محمد صاحب کی لڑکی حامدہ کے ساتھ ہو گیا۔خدا تعالیٰ دونوں نکاح مبارک کرے اور دونوں کو مع بیویوں کے عمر دراز کرے۔آمین۔حضرت مولوی نورالدین صاحب نے بعد از نماز عصر خطبہ نکاح پڑھا اس مبارک تقریب پر ہم مبارکباد کہتے ہیں۔حضرت امام علیہ السلام کی خدمت میں اور حضرت مولوی نورالدین صاحب کی خدمت میں اور حضرت ام المومنین اور والدہ صاحبہ عزیز عبدالحئی کی خدمت میں اور حضرت میر صاحب اور والدہ صاحبہ محمد اسحاق کی خدمت میں اور ان کے تمام لواحقین اور اہل بیت کی خدمت میں اور جناب ڈاکٹر میر عبدالستار شاہ صاحب اور پیر منظور محمد اور ان کے لواحقین کی خدمت میں اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان تعلقات میں اپنے فضل و کرم سے برکات عظیم ڈالے۔آمین ثم آمین۔19