اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 226 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 226

225 بتا کر ایک ہزار روپیہ آپ سے قرض لیا جو سترہ سال گذرنے پر اب تک ادا نہیں کیا۔آپ اپنے کاریگروں کو قرض دے دیتے تھے۔جو طریق قرض دینے کا تھا وہ اس واقعہ سے ظاہر ہے کہ ایک دفعہ ایک کاریگر کے گھر گئے۔مکان تنگ پایا۔اسے کہا کہ مجھ سے قرض لے کر مکان کو وسیع کر لو۔کہنے لگا کہ قرض کی ادائیگی مشکل امر ہے۔فرمایا کہ ایسے وقت ہمیشہ نہیں آتے تم قرض تو لے لو ادا ئیگی کا قصہ بعد میں دیکھا جائیگا۔آپ سینکڑوں روپے ماہوار خفیہ خیرات کرتے تھے۔اور ماہ رمضان المبارک میں خصوصاً زیادہ خیرات کرتے تھے۔اس خفیہ خیرات کا کسی کو بھی علم نہ ہوتا تھا۔آپ کی وفات کے بعد ان لوگوں کے وظائف رکے اور انہوں نے مطالبہ کیا تب اس بات کا علم ہوا کہ شولا پور تک کے مسلم و غیر مسلم آپ سے وظائف پاتے تھے۔چنانچہ سیٹھ عبدالحئی صاحب نے بھی یہ وظائف جاری کر دیئے۔اخویم سیٹھ محمد اعظم صاحب بیان کرتے ہیں کہ سیٹھ صاحب ہمیشہ پوشیدہ طور پر امداد دیتے تھے۔آپ کا طریق یہ تھا کہ مثلاً کوئی محتاج آیا اس نے کہا کہ میری لڑکی کی شادی ہونے والی ہے۔روپیہ نہیں۔تو آپ کوئی جواب نہ دیتے اور جب وہ واپس جانے لگتا تو کہتے کہ کل صبح کو سیر کو جاؤں گا میرے ساتھ چلنا۔رات کو نوکر کے ذریعہ کچھ روپیہ منگوا کر جیب میں رکھ لیا کرتے۔اور معمول کے طور پر جب صبح اپنے باغ تک جاتے جو ایک میل کے فاصلہ پر واقعہ ہے تو اس شخص کو ساتھ لیتے اور بالکل علیحدگی میں اسے رقم دے دیتے۔لوگوں کی امداد کرنے کے لئے اس حد تک طبیعت میں فیاضی تھی کہ کبھی کسی کو خالی واپس نہ کرتے۔فیاضی کا اس امر سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ میرے ملا زم کو جو موٹر صاف کیا کرتا تھا۔اور جس کی تنخواہ صرف پچیس روپیہ ماہوار تھی یعنی تین صدر و پیہ سالانہ۔اس کو میرے ہاں ملازم ہونے سے پہلے سیٹھ صاحب نے دو ہزار روپیہ قرضہ دیا تھا جو اس کی قریباً چار سال کی تنخواہ کے برابر تھا۔بھلا ایسے شخص سے وصولی کی توقع کیونکر ہوسکتی تھی۔جب کاروبار میں نقصان ہوا تو بہت زیادہ زیر بار ہو جانے کی ایک وجہ یہ بھی ہوئی کہ سائل بدستور آتے۔آپ کہتے کہ اب تو میرے پاس روپیہ نہیں تو وہ اپنی ضروریات بیان کر کے کہتے کہ آپ فلاں شخص کے نام چٹھی لکھ دیں ہم اس سے رقم حاصل کر لیں گے۔چنانچہ آپ بعض متمول آدمیوں کے نام لکھ دیتے کہ آپ کے حساب میں انہیں قرض دے دیں۔سو کا روباری حالت میں ضعف آنے کے ساتھ ساتھ ایسا قرض بھی بڑھتا گیا۔لیکن آپ کی طبیعت ایسی واقع ہوئی تھی کہ گھبراہٹ نام تک کو نہ ہوتی۔چنانچہ یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہوا کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے سو برس کی لمبی عمر عطا کی اور اس وقت تک وفات نہ دی جب تک کہ قرضوں کی ایک ایک پائی سے سبکدوش نہ ہو گئے۔آپ کی حد درجہ کی فیاضی کی وجہ سے مشہور تھا کہ لوگوں کو پیسے دے کر احمدی بناتے ہیں۔لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ بہت سے لوگ یہ طریق اختیار کرتے تھے