اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 197 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 197

196 سرے پر ایک نہایت خوبصورت عورت اعلیٰ درجہ کی پوشاک میں ملبوس آرہی تھی۔اور آپ تک اس کے زیوروں کی جھنکار پہنچتی تھی۔آپ کو تحریک ہوئی کہ اسے دیکھیں۔لیکن آپ نے کہا کہ میں کیوں دیکھوں محرک نے کہا کہ خدا تعالیٰ کی پیدا کردہ خوبصورت چیزوں کو دیکھنا منع نہیں، صرف بدنظری سے دیکھنا منع ہے۔آپ نے انکار کیا کہ مجھے حاجت نہیں جب عورت آپ کے پاس سے گذری تو تحریک کر نیوالے نے کہا کہ اچھا اب اتنا تو دیکھ لوکون عورت ہے کس کی لڑکی یا بہن ہے۔آپ نے کہا میں کیوں دیکھوں۔میں اس امر کی ضرورت نہیں سمجھتا۔اب تک محرک سامنے نہیں آیا تھا لیکن جب وہ (شیطان) آپ کے سامنے آیا اس کا قد لمبا تھا سر پر رنگین پگڑی تھی اس نے اپنی ایک انگلی کی پشت آنکھ پر رکھ کر کہ جس طرح بچہ روتے ہوئے کرتا ہے سکی لیکر کہا کہ ہم تو پھر جیتے جی ہی مر گئے۔آپ نے کہا مر گئے تو کھاؤ خصموں کو۔اس پر وہ غائب ہو گیا۔جب یہ لوگ آپکی باتوں سے متاثر ہوئے تو آپ نے ان سے کہا کہ آپ لوگوں کو کوئی غیرت نہیں کہ اپنی لڑکیاں ہندوؤں کو دیتے ہیں کہ جب مریں تو وہ انہیں جلادیں۔انہوں نے وعدہ کیا کہ دورہ کر کے اس کی روک تھام کریں گے چنانچہ بعد میں ایک صو بیدار پنشنر اسی گاؤں میں آیا اور اس نے بتایا کہ وہ اردگرد کے دیہات میں بڑے لوگوں کو تحریک کر رہا ہے کہ لڑکیاں ہندوؤں کو نہ دیا کریں اور فلاں دن ہمارا اجتماع ہوگا۔جس میں ہم بھی فیصلہ کریں گے۔گذشتہ سال ایک شخص قادیان آیا جس نے بتایا کہ اب یہ قباحت رک گئی ہے۔واپسی پر اپنے امیر ڈاکٹر خلیفہ تقی الدین احمد صاحب ( پسر ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب رضی اللہ عنہ ) کے حکم پر آپ بیاوڑ گئے۔ایک اخباری نمائندہ نے ڈاکٹر صاحب سے وقت لیا تھا لیکن وقت پر نہ پہنچ سکا۔جب بعد میں آیا تو ڈاکٹر صاحب کسی ضرورت کی بناء پر باہر جاچکے تھے۔منشی صاحب مکان پر اس خیال سے ٹھہرے رہے کہ شاید بعد میں آ جائے۔اس نے پوچھا کہ آپ اہل سنت کی امامت میں نماز کیوں نہیں پڑھتے۔منشی صاحب نے پوچھا کیا آپ ہمیں اچھی طرح جانتے ہیں ؟ اس نے کہا خوب جانتا ہوں۔منشی صاحب نے کہا کہ کیا ہمارے اندر آپ کوئی بات خلاف سنت دیکھتے ہیں۔اس نے کہا۔نہیں۔منشی صاحب نے کہا کہ پھر اہل سنت ہم ہوئے۔ہم کسی کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے ؟ اُس نے کہا کہ آپ کی بات تو معقول ہے لیکن آپ دوسرے مسلمانوں کے پیچھے نماز کیوں نہیں پڑھتے۔منشی صاحب نے کہا کہ آپ مان چکے ہیں کہ ہم اہل سنت ہیں۔اگر کوئی اہل سنت کو کافر کہے تو ؟ اس نے بڑے جوش سے کہا کہ وہ خود بے ایمان اور کافر ہے۔منشی صاحب نے کہا کہ لوگ تو ہمارے پیر کو بھی گالیاں دیتے ہیں۔آپ نے اُسے حضرت اقدس کے کچھ الہامات سنائے۔چنانچہ اس شخص ( یعنی با بوعبد الغفور صاحب سالٹ انسپکٹر سانبھر کے گھر ) نے منشی صاحب کی تبلیغ سے اسی وقت بیعت کر لی۔دوسری دفعہ آپ ۱۹۲۴ء میں تقریباً