اصحاب احمد (جلد 1) — Page 167
165 بند کر دیتے تھے۔اور مختلف شہروں میں متعدد آدمیوں نے آپ کی تبلیغ سے احمدیت قبول کی۔ڈیرہ غازی خاں کے علاقہ میں رسم ہے کہ وہاں کے باشندے حال دیتے اور لیتے ہیں پھر جو کوئی حال سنائے دوسرے کو سننا پڑتا ہے۔آپ عموماً پہلے حال لیتے اور بعد میں حال دینے میں یہ کہہ کر کہ میری زندگی کا ایک اہم واقعہ یہ ہے کہ میں احمدی ہو گیا اور اس کے دلائل یہ ہیں احمدیت کے متعلق ہر بات انہیں سنا دیتے۔وہ اپنے ملکی دستور کے مطابق سنے پر مجبور ہوتے۔آپ کو اس بات کا بار ہا تجر بہ ہوا کہ خواہ کسی معاند کے اسلام یا احمدیت پر اعتراض کا جواب آپ کو نہ آتا ہو وقت پر اللہ تعالیٰ ایسا جواب دل میں ڈالتا جو مسکت خصم ثابت ہوتا۔آپ اپنے عز و وقار اور منصب سے فائدہ اٹھا کر تبلیغ کے مواقع پیدا کرتے تھے اور کلمہ حق پہنچانے میں نڈر تھے۔چنانچہ ہم اخبار میں مرقوم پاتے ہیں: اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے ملک مولا بخش صاحب احمدی کلرک آف دی کورٹ کو کہ انہوں نے حضرت مفتی محمد صادق صاحب کے سفر لنڈن کی تقریب پر مفتی صاحب کو ایک دعوت دی۔جس میں معززین شہر گورداسپور کو جمع کر کے بعد کھانے کے مفتی صاحب موصوف نے ایک مدتل موثر مختصر تقریر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا دعوئی اور اس زمانہ میں آپ کی آمد کی ضرورت آپ کے دعوی کے دلائل بیان کئے۔سامعین پر بہت اچھا اثر ہوا اور بعض اصحاب نے زبانی بھی بہت سی باتیں حضرت مفتی صاحب سے دریافت کیں اور اطمینان بخش جواب پائے۔ملک صاحب کو خدا تعالیٰ نے دینی خدمت کا خاص جوش عطا کیا (ہے) اللہ تعالیٰ ان کی کوششوں میں برکات نازل کرے۔آمین ہے سلسلہ کی مالی خدمات : ملک صاحب شروع سے ہی سلسلہ کی مالی رنگ میں بہت خدمت کرتے رہے ہیں جیسا کہ سابقہ اوراق میں ذکر ہوا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے عہد مبارک میں ریویو آف ریلیجنز کا خریدار بنا اس کے لئے خریدار بنانا اعلیٰ درجہ کی نیکیوں میں شمار تھا۔چنانچہ آپ کے متعلق ہر دونوں طرح اعانت کرنے کا اندراج ملتا ہے۔علاوہ ازیں آپ موصی تھے اور تحریک جدید کے دور اول کے جہاد کبیر میں تا زندگی شریک رہے۔اقارب اور اولاد سے حسن سلوک اور غناء نفس : آپ نے اپنے اقارب سے محبت کا سلوک کیا اور ہر ایک کو تبلیغ بھی کی۔مگر ان میں سے اکثر سہل انگار پرانے طریقوں کے دلدادہ اور مفت میں بہشت چاہنے والے تھے اس لئے ان میں سے کوئی بھی احمدیت کو قبول