اصحاب احمد (جلد 1) — Page 159
157 قادیان سے جبری ہجرت اور واپسی کی خواہش : ملک صاحب کو دیگر احباب کی طرح کر ہا قادیان سے ۱۹۴۷ء میں ہجرت کرنی پڑی۔آپ نے اپنی پاکستان کی زندگی کے متعلق راقم کو مورخہ ۱۴/۷/۴۹ کو سیالکوٹ سے تحریر فرمایا: چونکہ صحت بھی اچھی نہیں اس لئے باوجود خواہش کے خط نہیں لکھ سکا۔قادیان سے نکل کر بہت دکھ پایا۔آپ لوگوں کو بھی گو تکالیف ہیں۔مگر آپ چونکہ اللہ تعالیٰ کے لئے تکلیف اٹھا رہے ہیں اس لئے وہ تکالیف ثواب آخرت کے علاوہ اپنا صلہ ساتھ ساتھ بنتی رہتی ہیں۔میں تو حالات کی مجبوری سے یہاں ایک گاؤں میں محصور ہوں، جہاں ڈاک بھی آٹھ دن کے بعد آتی ہے مگر ہے شہر سے نزدیک۔اس لئے دوسرے تیسرے جا کر خطوط اور اخبار الفضل لے آتا ہوں۔۔۔آج کل رمضان شریف ہے۔میں تو روزے تراویح درس سب سے محروم ہوں۔آپ سے دعا ہے کہ آپ حضرت صاحب کی صحت کے لئے دعا فرما دیں اور میرے لئے میرے اہل خانہ کے لئے بھی جو آپ کو کئی دفعہ یاد کرتے ہیں۔“ پھر ۱۳/۸/۴۹ کو تحریر فرماتے ہیں: میں جب تک لاہور میں تھا تو کوئی نہ کوئی دوست مل جایا کرتا تھا۔مگر میری ایک تو صحت خراب ہوگئی دوسرے میرے لئے وہاں کوئی مکان نہیں ملا تھا۔یہاں بھی شہر میں تو کوئی مکان نہ ملا ( سدھی) نے ایک گاؤں میں جو شہر سے کوئی دو تین میل دور ہے انتظام کر دیا۔جہاں ڈاک ہفتہ میں دو دفعہ جاتی ہے۔اس لئے میں ڈاک دوسرے پستہ پر شہر میں منگواتا ہوں اور وہاں جا کر یا تو خود لے آتا ہوں یا منگوالیتا ہوں۔نیز اہلیہ اور اس کی سو سال سے اوپر کی بوڑھی اور نابینا والدہ ہمارے ساتھ ہے۔میری بیوی اپنی والدہ سے اور میں اس سے بندھا پڑا ہوں اور ہماری نقل وحرکت پر اس طرح ایک سخت پابندی عائد ہے۔نبی کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا ہے ازدواج دین کو مدنظر رکھ کر کرو۔اگر غسر بھی ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو ئیسر میں بدل دیتا ہے اور یہ یقینی بات ہے کہ عسر مال سے دُور نہیں ہوتا۔تمام راحت کا تعلق دراصل دل سے ہے۔آپ لوگ بظاہر ٹھسر کی حالت میں ہیں لیکن جہاں دلوں میں اطمینان ہو وہ ہزار کیسر پیدا کر دیتا ہے جو بڑے بڑے صاحب املاک لوگوں کو حاصل نہیں۔اللہ تعالیٰ آپ سب لوگوں کو ہمیشہ بے شمار اجڑ اور رحمت سے نوازے۔وہاں کے حالات سے تفصیل اطلاع دیتے رہیں۔کئی دفعہ میرا بھی دل چاہتا ہے کہ دیار محبوب میں جاؤں۔مگر ابھی تک روک ہی ہے۔اگر